نظم : خواہش
نہیں
ہم کو نہیں خواہش
کوئی لڑکی ہمیں چاہے
ہمیں سوچے، ہمیں پوجے
ہماری بات کو مانے
نہیں ہم کو نہیں خواہش
کہ ہم ناراض ہو جائیں
ہمیں آکر منائے وہ
منا پائے نہ گر ہم کو
تو کھانا بھی نہ کھائے وہ
نہیں ہم کو نہیں خواہش
مری ناراضگی لے کر
وہ گھر بھر سے پھرے لڑتی
وہ بن جائے فقیرن سی
جہاں بھر کی حسیں لڑکی
نہیں ہم کو نہیں خواہش
کسی کی لاڈلی بٹیا
کو اپنے عشق میں پھانسیں
پھر اس کی لُوٹ لیں عزت
پھر اس کی چھین لیں سانسیں
نہیں ہم کو نہیں خواہش
کوئی لڑکی ہمیں چاہے
ہمیں سوچے ، ہمیں پوجے
ہماری بات کو مانے۔۔۔۔
محمد آصف میؤ