Tuesday, 11 October 2022

نظم : خواہش 

نہیں ہم کو نہیں خواہش

کوئی لڑکی ہمیں چاہے

ہمیں سوچے، ہمیں پوجے

ہماری بات کو مانے

 

نہیں ہم کو نہیں خواہش

 

کہ ہم ناراض ہو جائیں

ہمیں آکر منائے وہ

منا پائے نہ گر ہم کو

تو کھانا بھی نہ کھائے وہ

 

نہیں ہم کو نہیں خواہش

 

مری ناراضگی لے کر

وہ گھر بھر سے پھرے لڑتی

وہ بن جائے فقیرن سی

جہاں بھر کی حسیں لڑکی

 

نہیں ہم کو نہیں خواہش

 

کسی کی لاڈلی بٹیا

کو اپنے عشق میں پھانسیں

پھر اس کی لُوٹ لیں عزت

پھر اس کی چھین لیں سانسیں

 

نہیں ہم کو  نہیں خواہش

کوئی لڑکی ہمیں چاہے

ہمیں سوچے ، ہمیں پوجے

ہماری بات کو مانے۔۔۔۔

 

محمد آصف میؤ

 


Sunday, 9 October 2022

اُس کے دل کا جہان دیکھ لیا

ہم نے اپنا نشان دیکھ لیا

تیری مُسکان دیکھ لی جس نے

اس نے سارا جہان دیکھ لیا

اب نہ ہم سے چُھپا رُخِ روشن

ہم نے اے مہربان دیکھ لیا

اِس میں کوئی نہیں تمہارے سوا

تم نے دل کا مکان دیکھ لیا

اِس جہاں کی ہر ایک نعمت میں

تیرا جلوہ سبحان دیکھ لیا

اب کسی شے پہ بھی دھیان نہیں

تجھ پہ دے کر دھیان دیکھ لیا

ہم کو تجھ سا نہیں ملا کوئی

ہم نے سارا جہان دیکھ لیا

محمد آصف میؤ

Sunday, 31 July 2022

 

آپ کر دو کرم کی نظر یا نبی

ہم بھی ہو جائیں گے معتبر یا نبی

 

محمد آصف میؤ

 

 بس کیجیے کب تک یوں دوپٹہ بھگوئیں گے

اس ایک شخص کے لئے چیخیں گے  روئیں گے

سب ٹوٹے ہوئے شاعروں کو مار ڈالیے

یہ ماتمی ، اداسیوں کا بیج بوئیں گے

ہم ہجر کے ماروں کو کہاں نیند میسر

ہم ہجر زدہ لوگ تو مر کر ہی سوئیں گے

جو لوگ ہیں دن رات مگن شعر گوئی میں

یہ لوگ نئی نسل کی کشتی ڈبوئیں گے

ہم کب تلک خوشیوں کو فراموش کریں گے

ہم کب تلک بچھڑے ہوئے لوگوں کو روئیں گے

ہم حضرتِ یعقوب کی سنت پہ چلیں گے

رو رو کے اپنی چشم کی بینائی کھوئیں گے

محمد آصف میؤ


Thursday, 21 July 2022

ہر جگہ ہر گھڑی ہر پہر میں ہیں ہم

اک حسیں شاعرہ کے سحر میں ہیں ہم

 

عشق نے چند دن کی خوشی دی ہمیں

اب شب و روز غم کی لہر میں ہیں ہم

 

محمد آصف میؤ


Friday, 8 July 2022

مجھ کو میری محبت عطا کیجیئے

گر نہیں تو مجھے پھر فنا کیجیئے

 

    محمد آصف میؤ   

شغلِ تعلیم جسے بُھولنے کا حربہ ہے 

اُس کی یاد مجھے رات بھر جگاتی ہے 

 

محمد آصف میؤ

تم پہ گزری نہیں ہے یار تم نہ سمجھو گے 

"جان سے پیارا کوئی رُوٹھے تو کیا ہوتا ہے"

 

محمد آصفؔ میؤ


تُجھے ٹٹولتے ہیں لوگ میری غزلوں میں 

یہ بے وقوف مرے دل میں جھانکتے ہی نہیں

 

محمد آصف میؤ


بدلہ مانگے جو بھکاری نہیں کہتے اس کو 

بے وفا میری محبت کا صلہ دے مجھ کو 

‏ہزار سجدے سجاؤں گا میں تیرے در پہ

بس ایک بار میرا یار ملا دے مجھ کو

تمام عمر کبھی جام نہ اٹھاؤں گا 

بس ایک بار نگاہوں سے پلا دے مجھ کو

محمد آصف میؤ


تم مری زیست کا سامان نہیں ہو سکتی

تم مری زیست کا سامان نہیں ہو سکتی 

دوست ہو سکتی ہو پر جان نہیں ہو سکتی 

زندگی نام ہی دشواری و الجھن کا ہے 

زندگی ہے تو پھر آسان نہیں ہو سکتی

جس نے دیکھا ہے تمہیں ہنستے مسکراتے ہوئے 

اُس کی آنکھیں کبھی ویران نہیں ہو سکتی

تمہاری ہی عطا کردہ ہے یہ ژولیدہ حالی 

تم میرے حال پر حیران نہیں ہو سکتی

دل یہ ہر ایک حسینہ کو جگہ دیتا ہے

دل کی بستی کبھی سُنسان نہیں ہو سکتی

محمد آصف میؤ


ہم جنہیں من ہی من میں سوچ کے سنورتے ہیں 

دوستوں میں ہم ان کا ذکر کہاں کرتے ہیں 

ایک  وہ ہیں کہ نظر تک میں نہیں رکھتے ہمیں 

ایک ہم ہیں کہ انہیں اپنے دل میں رکھتے ہیں

ایک وہ ہیں کہ جنہیں قرب میسر ہے ترا 

ایک ہم ہیں کہ تری دید کو ترستے ہیں 

وہ جنہیں وصل میسر ہی نہیں آیا کبھی 

وہ بیچارے بھی جدائی کے ڈر سے ڈرتے ہیں

ہم ایسے لوگ کہاں تیرے دل کے قابل ہیں 

ہم ایسے لوگ تباہی کے لئے بنتے ہیں  

ہم  تو بس عشق لڑانے کے حق میں ہیں صاحِب

ہم کہاں ساتھ نبھانے کی بات کرتے ہیں 

وہ جنہیں  عشق کی بیماری لگی ہو آصف 

رات بھر سوتے نہیں کروٹیں بدلتے ہیں

 

محمد آصف میؤ


تیری آنکھوں کو پڑھ لیا جس نے 

وہ کہاں کیمیا کو پڑھتے ہیں ؟ 

ہم تجھے سوچ سوچ کے آصف 

روز اک بڑھیا غزل لکھتے ہیں 

 

محمد آصف میؤ


Monday, 4 July 2022

تم ہی تھی پہلی محبت میری 

اور تمہی آخری چاہت میری

زندگی لمبا سفر ہے اس میں 

تم کو پڑنی ہے ضرورت میری

سب تمہارے ہیں طرف دار یہاں 

کون سنتا ہے شکایت میری

پیار تو بھول گئی ہو لیکن 

یاد رکھو گی عداوت میری 

فاصلہ رکھو خدارا مجھ سے 

ورنہ ہو جائے گی عادت میری 

کوئی خوش بخت ہی ہوگا جس کو 

راس آئے گی محبت میری

محمد آصف میؤ


ہزار سجدے سجاؤں گا میں تیرے در پہ

بس ایک بار میرا یار ملا دے مجھ کو۔

محمد آصف میؤ


Sunday, 3 July 2022

معلوم ہے وہ میرا مقدر نہیں ہے پر ۔۔

دل سے اُس ایک شخص کی خواہش نہیں جاتی

 

محمد آصف میؤ


Thursday, 19 May 2022

دل سے اُس ایک شخص کی خواہش نہیں جاتی

 کچھ نا مُراد لمحوں کی رنجش نہیں جاتی 

آنکھوں سے انتظار کی بارش نہیں جاتی

اک ہم ہیں بِچھے جاتے ہیں قدموں میں تمہارے 

اک تم ہو کہ جناب کی نازش نہیں جاتی

معلوم ہے وہ میرا مقدر نہیں ہے پر ۔۔۔۔۔۔

دل سے اُس ایک شخص کی خواہش نہیں جاتی

تم جتنا احترام کرو جتنا پیار دو ۔۔۔۔۔۔۔

لہجے سے بد لحاظ کے شورش نہیں جاتی

اک بار یوں لگا کہ وہ محفل میں ہیں موجود 

تب سے مری نگاہ کی جنبش نہیں جاتی

بس اس خیال سے تری چاہت میں ہیں مگن 

کہ رائیگاں کسی کی بھی کوشش نہیں جاتی

کتنوں کو مرے سامنے برباد کیا پر ۔۔۔۔۔

پھر بھی ہماری عشق کی خارش نہیں جاتی

 

محمد آصف میؤ

تم مری زیست کا سامان نہیں ہو سکتی
دوست ہو سکتی ہو پر جان نہیں ہو سکتی

جس نے دیکھا ہے تمہیں ہنستے مسکراتے ہوئے
اُس کی آنکھیں کبھی ویران نہیں ہو سکتی

محمد آصف میؤ

Monday, 16 May 2022

رُخ سجا لے تو کیا قیامت ہو

پھر چھپا لے تو کیا قیامت ہو

پر کشش اور حسیں لوگوں کے

دل ہوں کالے تو کیا قیامت ہو

جان سوزی سے روکنے والا

زہر کھا لے تو کیا قیامت ہو

ہم سے کچی عمر کے عاشق کو

ہجر آلے تو کیا قیامت ہو

غم کو شعروں میں ڈھالنے والا

غم چھپا لے تو کیا قیامت ہو

گاؤں کا لڑکا شہری لڑکی سے

دل لگا لے تو کیا قیامت ہو

کوئی خود اپنی آستینوں میں

سانپ پالے تو کیا قیامت ہو

کوئی شاہ زادی ہمارے دل میں

گھر بنا لے تو کیا قیامت ہو

کوئی لڑکی مری محبت میں

خوں بہا لے تو کیا قیامت ہو

اپنے بابا کے سر کی پگڑی کو

روند ڈالے تو کیا قیامت ہو

 

 

محمد آصف میؤ

 


ایک پیپل کی ٹھنڈی چھاؤں میں

پیار بستا ہے میرے گاؤں میں

جو سکوں ہے ہمارے گاؤں میں

وہ کہاں شہر کی فضاؤں میں

ماں کے آنچل  کی ٹھنڈی چھاؤں میں

میری جنت ہے ماں کے پاؤں میں

جب مرے سامنے وہ آتی ہے

اڑنے لگتا ہوں میں ہواؤں میں

دل لگی کھیل بے وفاؤں کا

عشق مقبول باوفاؤں میں

ایک معصوم سی خواہش ہے مری

وہ کبھی آئے میرے گاؤں میں

اپنی غزلوں کی بناؤں پائل

اور پہنا دوں اسکے پاؤں میں

 

محمد آصف میؤ


Monday, 25 April 2022

وہ ایک لڑکی

 وہ ایک لڑکی کہ جسکی آنکھوں 

میں جگنوؤں سی چمک ہے یارو 

اُفق پہ بارش کے بعد پڑتی

 وہ سات رنگی دھنک ہے یارو 


ہمارے دل میں وہ ایک لڑکی

 گزشتہ سالوں سے بس رہی ہے

کہ یاد اس کی ہمارے جیون

 کو لمحے لمحے میں ڈس رہی ہے


وہ ایک لڑکی کے جسکی صورت

 کو میری آنکھیں ترس رہی ہیں

وہی تو ہے وہ کہ جس کے غم میں 

ہماری آنکھیں برس رہی ہیں


وہ ایک لڑکی جو میری خواہش

 ہے میری حسرت ہے میری چاہت 

وہ ایک لڑکی کہ جس کو دیکھے

 سے میرے دل کو ہے ملتی راحت


وہ ایک لڑکی کہ جس کو دیکھے سے

 میرے دل کو قرار آئے 

وہ ایک لڑکی کہ جس کی ہر اک

 ادا پہ آصف کو پیار آئے


وہ ایک لڑکی کہ شہرِ قائد میں

 جس کا گھر ہے 

وہ لڑکی مجھ کو

 جہان بھر سے عزیز تر ہے


وہ لڑکی مجھ کو

 جہان بھر سے عزیز تر ہے


محمد آصف میؤ

مری تحریروں میں غزلوں میں بسی ہے یارو 
میرے جیون میں فقط اُس کی کمی ہے یارو

 

وہ فقط لڑکی نہیں ہے میں کیسے سمجھاؤں

وہ میرے درد کی دوا ہے خوشی یے یارو

 

محمد آصف میؤ

 میں تھا کل تک تری دعاؤں میں 

آج شامل ہوں بے وفاؤں میں 

جا رہا ہوں میں تیری دنیا سے 

یاد رکھنا مجھے دعاؤں میں

تم نہیں آئے میرے حصّے میں 

نقص تھا کچھ مری دعاؤں میں 

جب مرے سامنے وہ آتی تھی 

اُڑنے لگتا تھا میں ہواؤں میں 

میں نے بے وجہ دل نہیں ہارا 

کچھ تو تھا آپ کی اداؤں میں

ایک معصوم سی خواہش ہے مری 

تم کبھی آؤ میرے گاؤں میں 

میں خوشی سے دیوانہ ہو جاؤں 

دل بِچھاؤں تمہارے پاؤں میں 

آپ فائز وفا کی کرسی پر 

اور  مرا ذکر بے وفاؤں میں

ہم تو رندوں کے رند ہیں آصف

نہ گِنو ہم کو پارساؤں میں

محمد آصف میؤ

Wednesday, 20 April 2022

 محبتوں کے عذاب دیکھو

یہ چاہتوں کے سراب دیکھو 


کہ اپنا رشتہ ہے چند دنوں کا 

نہ زندگی بھر کے خواب دیکھو


تمہاری باتوں سے بن گیا ہے 

مرے جگر کا کباب دیکھو

محمد آصف میؤ

 یوں اشکوں میں سارے غم بہانا بھی پیار ہے کیا 

کسی کی خاطر جہاں بھلانا بھی پیار ہے کیا


کہ یاد کرنا یا یاد آنا بھی پیار ہے کیا 

کسی کے میسج پہ مُسکرانا بھی پیار ہے کیا


یہ ایک دوجے کو کنکھیوں سے جو دیکھتے ہیں 

کہیں پہ نظریں کہیں نشانہ بھی پیار ہے کیا

محمد آصف میؤ

 اس نے پوچھا تھا اور کتنی ہیں میرے جیسی

بس اس کے بعد کبھی بات نہیں کی اُس سے

محمد آصف میؤ

 سب کو شاہ زادیوں سے مطلب ہے 

بھاڑ میں جائے فاقہ کش لڑکی

محمد آصف میؤ

 جنوں ہی نہ رہا جب شاعری کہاں سے ہو 

ترے بغیر مری جاں خوشی کہاں سے ہو


تم میرے منہ پہ ہی میرے ہو پیٹھ پیچھے نہیں 

ایسے میں تم سے بھلا دوستی کہاں سے ہو


سراپا حسن ہو لگتی ہو ملکہ پریوں کی 

بلا کی خوبصورت ہو اجی کہاں سے ہو


میرے نزدیک تو خود سوز بہادر ہیں بہت

وگرنہ بزدلوں سے خود کشی کہاں سے ہو


جب دوست ہی دشمن ہوں آپ کے صاحب 

پھر بھلا دشمنوں سے دشمنی کہاں سے ہو

محمد آصف میؤ

 فقط تیری آواز سننے کی خاطر 

مرے کان برسوں سے ترسے ہوئے ہیں

محمد آصف میؤ

 دِل میں باتیں تھی جو چھپی ساری 

رہتے رہتے وہ رہ گئی ساری 


تُو جو آ جائے زندگی میں مِری 

پوری ہو جائے گی کمی ساری 


تیری مُسکان سے جاتی رہے گی 

یہ جو آنکھوں میں ہے نمی ساری 


تُو وجہ ہے ہمارے جینے کی 

تجھ سے وابستہ ہے خوشی ساری 


ادھورے شعر بے تُکی غزلیں 

اپنی پونجی ہے بس یہی ساری

 

اب بھی کرنے کو بہت باتیں ہیں 

ہم نے دِل کی نہیں کہی ساری 


جانِ جاں تیرے حسیں چہرے پر 

وار دوں اپنی زندگی ساری


محمد آصفؔ میؤ

Tuesday, 8 February 2022

غزلیں سنتی ہو شعر پڑھتی ہو

غزلیں سنتی ہو شعر پڑھتی ہو 

تم بہت دل پذیر لڑکی ہو 


تم مرے ہوتے ہوئے ماہ جبیں 

آئینہ دیکھ کر سنورتی ہو؟


مجھ کو عادت ہے بھول جانے کی 

کیوں مری عادتوں سے ڈرتی ہو؟


میں بھلا کیسے بُھلا دوں تم کو 

تم مری دھڑکنوں میں بستی ہو


میں بھی نصرت فتح کو سنتا ہوں 

تم بھی نصرت فتح کو سنتی ہو


کس قدر بےوقوف ہو تم بھی 

میری معصومیت پہ مرتی ہو 


مجھ سے ملنے کو روز آیا کرو 

تم مرے دل کو بھلی لگتی ہو


چین مجھ کو بھی نہیں پر تم بھی 

رات بھر کروٹیں بدلتی ہو


مجھ کو تم سے یہ پوچھنا  ہے فقط 

اب بھی تم مجھ کو یاد کرتی ہو ؟ 


کیا ہتھیلی پہ اب بھی مہندی سے 

اپنے آصف کا نام لکھتی ہو

محمد آصف میؤ

Wednesday, 2 February 2022

 جس پہ گزرے ہے وہی جانے ہے 

سننے والے تو مزے لیتے ہیں 


حالِ دل کہہ تو دوں کسی سے مگر 

لوگ بدنام کئے دیتے ہیں

محمد آصف میؤ

 جانے کا وقت اب ہوا چاہتا ہے یہاں سے 

آ جاؤ اب تو باز میاں عشقِ بتاں سے


پڑھنے دو ابھی ایک دو مشاعرے مجھے

جانیں گے مجھے سب میرے اندازِ بیاں سے


مانا کے تیرے حسن کے دیوانے ہیں بہت

لاؤ گے مجھ سے چاہنے والے کو کہاں سے


میں مار کر ملے تیرے دل میں جگہ اگر 

ہم بے ٹھکانہ اچھے میاں ایسے مکاں سے


اب دیکھنا چاہتے ہیں ہم وہ دوسرا جہاں 

بیزار ہو گئے بہت اس ارض و سماں سے


جو کاروبارِ عشق میں پڑ جائے ایک بار 

کچھ اس کو نہیں واسطہ پھر سودوزیاں سے


ہر گز نہیں ہو سکتی میری اُس سے دوستی 

جس کو نہیں ہے پیار میری اردو زباں سے


محمد آصفؔ میؤ

Friday, 14 January 2022

آپ کب تک ہمیں بہلائیں گے 

ہم تو اکثر اداس رہتے ہیں 


آپ مر جائیں یہی بہتر ہے 

کس لئے اتنے درد سہتے ہیں 


وہ لڑکی جان ہے چاہت ہے مری 

علی الاعلان سب سے کہتے ہیں

محمد آصفؔ میؤ

Wednesday, 15 December 2021

 تا دمِ مرگ تجھے دل میں بسائے رکھا 

اور دنیا سے تیرا عشق چھُپائے رکھا 


مجھ کو ہونے دیا کسی کا نہ خود میرا ہوا 

زندگی بھر مجھے دیوانہ بنائے رکھا


لذتِ وصل سے واقف نہ ہوئے ساری عمر 

ذائقہ ہجر کا بس مجھ کو چکھائے رکھا


آنے پایا نہ میرے دل میں کوئی تیرے بعد 

مسندِ دل پہ فقط تجھ کو بٹھائے رکھا 


دورِ فرقت میں میسر نہیں تھا جب تو ہمیں  

تیری تصویر سے ہی کام چلائے رکھا


ہم ترستے رہے اک نظرِ کرم کو تیری 

تو نے جامِ نظر غیروں کو پلائے رکھا


محمد آصفؔ میؤ

 تجھے سننا چاہوں ہر دم تجھے دیکھوں میں مسلسل 

میرا خوں نچوڑتا ہے تیرے ربط میں تعطُّل


کبھی بن کہے ہی سننا میرا حالِ دل سمجھنا

کبھی سن کے بھی نہ سننا ارے واہ تیرا تجاہل


مجھے دیکھ کر بھی جو تم یوں بنو کہ نہیں دیکھا

تمہیں زیب ہے کیا جاناں بھلا اس قدر تغافل


تو گیا ہے جب سے دلبر میرا لگ نہیں رہا دل 

یہ دنوں میں بھی دکھی ہے اور شب میں بھی بیاکل


وہ یہ بولی بن سنور کے کہ میں کیسی لگ رہی ہوں 

میں یہ بولا جان میری نہیں تیرا کچھ تقابُل


اک غم سے جان چھُوٹے تو تیّار دوسرا ہے

میری زندگی میں آصفؔ ہے غموں کا اک تسلسل


محمد آصفؔ میؤ

Monday, 29 November 2021

 یہ بارِ غمِ عشق اٹھایا نہ جائے گا 

تم رُوٹھے اگر ہم سے منایا نہ جائے گا 


تم خود ہی آکے دیکھ لو حالِ مریضِ عشق 

قاصد سے میرا حال سنایا نہ جائے گا 


سب ایک بار سن لیں میرا شعر غور سے 

دوبارہ کسی کو بھی سنایا نہ جائے گا 


چہرے سے عیاں ہوتا ہے جاناں تمہارا غم 

ہم سے تمہارا ہجر چھپایا نہ جائے گا 


جو ایک بار بیٹھ گیا مسندِ دل پر 

تاحشر اسے دل سے اتارا نہ جائے گا 


رد ہو گئی جو اب کے بھی درخواست ہماری 

ہم سے دوبارہ رب کو پکارا نہ جائے گا


جو مانگنا ہے دل سے مانگ اپنے خدا سے 

یہ مانگنا تمہارا نکارہ نہ جائے گا


آپ ائیے ہمارا مقدر سنوارئیے  

ہم سے تو کسی طور سنوارا نہ جائے گا


آصفؔ جسے یہ عاشقی کا روگ لگ گیا 

ماہر طبیب سے بھی بچایا نہ جائے گا


محمد آصفؔ میؤ

تم سے شادی کی کوئی صورت نہیں اے جانِ جاں 

تم بھی اب اس خیال کو رکھو نہ اپنے دھیان میں 


جو مری دلہن بنے گی ایک دن مر جائے گی 

تم امر ہو جاؤ گی جانم مرے دیوان میں


محمد آصف میؤ

Monday, 22 November 2021

 جن راستوں پہ اُس کے قدم تھے پڑے کبھی 

جُوتے اُتار کر میں گزرتا ہوں وہاں سے

جب کی ہے ہے محبت تو کیوں دنیا سے چھپاؤں
ہاں مجھ کو محبت ہے فلاں بنتِ فلاں سے

سب کہتے ہیں اس کو بھی بہت پیار ہے مجھ سے
لیکن میں سننا چاہتا ہوں خود اس کی زباں سے

محمد آصفؔ میؤ

Friday, 5 November 2021

محمد آصف میؤ

 نگاہ اٹھا کے وہ محفل میں جب سلام کرے

ہوش والوں کی مدہوشی کا انتظام کرے

ہر ایک شخص کو نسبت بتانی پڑتی ہے
کون پاگل تمہارے شہر میں قیام کرے

ایک خواہش ہے میرے دل میں کہ وہ مہ جبیں
ملا کے نظر کبھی مجھ سے بھی کلام کرے

وہ رخ سے زلفیں ہٹا لے تو روشنی پھُوٹے
رخ پہ ڈالے اگر زلفیں تو دن کو شام کرے

خیالِ یار سے اک پل بھی جب نہیں غافل
کوئی دیوانہ بھلا کس پہر آرام کرے
محمد آصفؔ میؤ

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...