جانے کا وقت اب ہوا چاہتا ہے یہاں سے
آ جاؤ اب تو باز میاں عشقِ بتاں سے
پڑھنے دو ابھی ایک دو مشاعرے مجھے
جانیں گے مجھے سب میرے اندازِ بیاں سے
مانا کے تیرے حسن کے دیوانے ہیں بہت
لاؤ گے مجھ سے چاہنے والے کو کہاں سے
میں مار کر ملے تیرے دل میں جگہ اگر
ہم بے ٹھکانہ اچھے میاں ایسے مکاں سے
اب دیکھنا چاہتے ہیں ہم وہ دوسرا جہاں
بیزار ہو گئے بہت اس ارض و سماں سے
جو کاروبارِ عشق میں پڑ جائے ایک بار
کچھ اس کو نہیں واسطہ پھر سودوزیاں سے
ہر گز نہیں ہو سکتی میری اُس سے دوستی
جس کو نہیں ہے پیار میری اردو زباں سے
محمد آصفؔ میؤ
No comments:
Post a Comment