Wednesday, 2 February 2022

 جانے کا وقت اب ہوا چاہتا ہے یہاں سے 

آ جاؤ اب تو باز میاں عشقِ بتاں سے


پڑھنے دو ابھی ایک دو مشاعرے مجھے

جانیں گے مجھے سب میرے اندازِ بیاں سے


مانا کے تیرے حسن کے دیوانے ہیں بہت

لاؤ گے مجھ سے چاہنے والے کو کہاں سے


میں مار کر ملے تیرے دل میں جگہ اگر 

ہم بے ٹھکانہ اچھے میاں ایسے مکاں سے


اب دیکھنا چاہتے ہیں ہم وہ دوسرا جہاں 

بیزار ہو گئے بہت اس ارض و سماں سے


جو کاروبارِ عشق میں پڑ جائے ایک بار 

کچھ اس کو نہیں واسطہ پھر سودوزیاں سے


ہر گز نہیں ہو سکتی میری اُس سے دوستی 

جس کو نہیں ہے پیار میری اردو زباں سے


محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...