Friday, 8 July 2022

ہم جنہیں من ہی من میں سوچ کے سنورتے ہیں 

دوستوں میں ہم ان کا ذکر کہاں کرتے ہیں 

ایک  وہ ہیں کہ نظر تک میں نہیں رکھتے ہمیں 

ایک ہم ہیں کہ انہیں اپنے دل میں رکھتے ہیں

ایک وہ ہیں کہ جنہیں قرب میسر ہے ترا 

ایک ہم ہیں کہ تری دید کو ترستے ہیں 

وہ جنہیں وصل میسر ہی نہیں آیا کبھی 

وہ بیچارے بھی جدائی کے ڈر سے ڈرتے ہیں

ہم ایسے لوگ کہاں تیرے دل کے قابل ہیں 

ہم ایسے لوگ تباہی کے لئے بنتے ہیں  

ہم  تو بس عشق لڑانے کے حق میں ہیں صاحِب

ہم کہاں ساتھ نبھانے کی بات کرتے ہیں 

وہ جنہیں  عشق کی بیماری لگی ہو آصف 

رات بھر سوتے نہیں کروٹیں بدلتے ہیں

 

محمد آصف میؤ


No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...