ہم جنہیں من ہی من میں سوچ کے سنورتے ہیں
دوستوں میں ہم ان کا ذکر کہاں کرتے ہیں
ایک وہ ہیں کہ نظر تک میں نہیں رکھتے ہمیں
ایک ہم ہیں کہ انہیں اپنے دل میں رکھتے ہیں
ایک وہ ہیں کہ جنہیں قرب میسر ہے ترا
ایک ہم ہیں کہ تری دید کو ترستے ہیں
وہ جنہیں وصل میسر ہی نہیں آیا کبھی
وہ بیچارے بھی جدائی کے ڈر سے ڈرتے ہیں
ہم ایسے لوگ کہاں تیرے دل کے قابل ہیں
ہم ایسے لوگ تباہی کے لئے بنتے ہیں
ہم تو بس عشق لڑانے کے حق میں ہیں صاحِب
ہم کہاں ساتھ نبھانے کی بات کرتے ہیں
وہ جنہیں عشق کی بیماری لگی ہو آصف
رات بھر سوتے نہیں کروٹیں بدلتے ہیں
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment