Monday, 9 December 2024

 تیری آغوش میں سمانا ہے

غم زمانے کا بھول جانا ہے 


آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے 

آپ نے ہم کو بھول جانا ہے 


حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے 

روٹھ جانا ہے دل دکھانا ہے 


کب تلک مبتلائے عشق رہوں 

میں نے پیسہ بھی تو کمانا ہے


کس طرح چھوڑ دوں سخن آصف 

شعر شاعر کا آب و دانہ ہے


یہ تری چشمِ نیم باز آصف

کیسا عمدہ شراب خانہ ہے


محمد آصف میو

Sunday, 15 September 2024

 پیار کے پھول مرے دل میں کھلانے والا

مجھ  کو پیارا ہے مرا ساتھ نبھانے والا


واسطے ، ناطے،تعلق کو نہیں دیکھےگا

چھوڑ جائے گا میاں چھوڑ کے جانے والا


کسی کےعشق میں برباد نہیں ہو سکتا 

میں اکیلا ہوں مرے گھرمیں کمانے والا


اب کسی اور کو محبوب بلاتا ہوگا

دھجیاں میری محبت کی اڑانے والا


جس کو سونپی ہوئی ہے دل کی حکومت میں نے

جانتا ہوں وہ نہیں ساتھ نبھانے والا


محمد آصف میو

Sunday, 2 June 2024

تیرا ٹوٹا غرور دیکھیں گے

انشاء اللہ ضرور دیکھیں گے


باقی رہتا ہے آخرش کب تک 

تیرے چہرے کا نور، دیکھیں گے


اور وہ دن بھی آئے گا جس دن

تیرا روضہ حضورﷺ دیکھیں گے


میرے اللہ نے اگر چاہا

ہم بھی جنت میں حور دیکھیں گے 


وہ تو لڑکا ہے خیر ہے اس کی

سب تمہارا قصور دیکھیں گے


محمد آصف میئو

Saturday, 4 May 2024

 زخم دل پر مرے لگایا گیا 

تم کو مجھ سے جدا بتایا گیا 


آخری بار اس کو دیکھا گیا 

آخری بار مسکرایا گیا 


میری میت پہ خاک ڈالی گئی

تیری شادی پہ گیت گایا گیا 


پھر مرا پیار مجھ سے چھینا گیا 

پھر مرا صبر آزمایا گیا


اس کے بستے میں پھول رکھے گئے 

اس کی کاپی پہ دل بنایا گیا 


جب محبت میں بے وفائی ملی

تب محبت سے باز آیا گیا


محمد آصف میئو

Sunday, 31 March 2024

 میں ہوں تیری کمی ہے کمرے میں 

کس قدر بے بسی ہے کمرے میں 


دل کی دھڑکن سے کان پھٹتے ہیں

اس قدر خامشی ہے کمرے میں 


تیرے جانے کے بعد مایوسی 

ہر سُو بکھری پڑی ہے کمرے میں 


اس لئے چھوڑتا نہیں اس کو 

تیری خوشبو بسی ہے کمرے میں


 کل اداسی تھی غم تھا رسی تھی 

آج پھانسی لگی ہے کمرے میں


محمد آصف میئو

Wednesday, 27 March 2024

 بدنامیوں کا روگ مرے حصے ڈال کر

کیا مل گیا تمہیں مری عزت اچھال کر


ہم لوگ ہیں کہ سجنے سنورنے کی عمر میں 

بیٹھے ہوئے ہیں عاشقی کا روگ پال کر


اچھا بتاؤ ملک کو کس نے تباہ کیا

یہ تو سبھی کو آتا ہے مشکل سوال کر


اگلے جہان رب کو دکھانے کے واسطے 

رکھا ہوا ہے تیرا ہر اک دکھ سنبھال کر 


جو اس جہاں نہ مل سکے ان کو وہاں ملا 

اے خالقِ جہان  ہمارا خیال کر

Friday, 23 February 2024

 ہمارے سامنے لفظوں کی کچھ وَقعَت نہیں آصف 

ہمیں جذبوں کو پڑھنے کا ہنر اچھے سے آتا ہے 


محمد آصف میئو 

Sunday, 18 February 2024

 میں شب بھر تھا کس کرب میں مبتلا 

مری جان تجھ کو نہیں ہے پتہ


ترے بن میں کیسے رہوں گا بھلا 

تو آتی نہیں ہے تو آلے قضا 


مجھے چھوڑ کر تو کہاں چل دیا 

محبت کا میری صلہ یہ دیا 


میں جب یاد کرتا ہوں اپنی وفا 

مجھے یاد آتی ہے تیری جفا


تو جس کو بھی رکھے گا دل میں مگر 

تجھے ہی رکھوں گا میں دل میں سدا


 محمد آصف میئو 

 ایسی بھی کیا مصیبتیں ٹوٹی ہیں آپ پر

صحرا میں آ بسے ہو جو گھر بار چھوڑ کر


چاہیں تو کاٹ دیجیے حاضر ہے میرا سر

ایسے تو چھوڑ کر نہیں جائیں حضور پر


ہم جل رہے ہیں ہجر کے صحرا میں یا خدا 

اب تو ہمیں بھی وصل کی بارش نصیب کر 


بیٹھے ہو ڈاکٹر تو کرو میرا کچھ علاج

تیرہ برس سے نیند نہیں آتی رات بھر 


کہنے لگے وہ میرے کچھ اشعار دیکھ کر 

آصف غزل کی دیوی مہر باں ہے آپ پر


محمد آصف میؤ

 یہ تعلق تمام مت کیجو

میرا جینا حرام مت کیجو


جس سے اجداد کی ہو رسوائی 

ایسا کوئی بھی کام مت کیجو


اے غمِ جان ایک منت ہے 

میرے دل میں قیام مت کیجو


تیرا جامِ نگاہ کافی ہے

رقص کا اہتمام مت کیجو


بیٹھے رہیو ہمارے پہلو میں 

چاہے ہم سے کلام مت کیجو


شاعری کیجیو مگر آصف

میری آنکھوں کا نام مت کیجو


محمد آصف میؤ

 ہم کو ملتان سے محبت ہے 

اور دل جان سے محبت ہے


ہر اس انسان سے محبت ہے 

جس کو نقصان سے محبت ہے


ہم کو عمران سے محبت ہے 

اپنے کپتان سے محبت ہے


تم کو ہوگی جہاں کی دولت سے

ہم کو انسان سے محبت ہے


آپ لاہور سے کریں لیکن 

ہم کو ملتان سے محبت ہے 


ہاں نہیں ہے وصال سے لیکن 

دردِ ہجران سے محبت ہے


جو محبت کی سوجھ رکھتا ہو

ایسے دھنوان سے محبت ہے


محمد آصف میؤ

 دل کی شمع بجھا رہا ہوں میں 

آپ سے دور جا رہا ہوں میں


ہجر تیرا منا رہا ہوں میں 

عمر اپنی گھٹا رہا ہوں میں


پیار کے نغمے گا رہا ہوں میں 

نیند میں بڑبڑا رہا ہوں میں 


اپنے دل کی ہتھیلیوں پر سے 

نام تیرا مٹا رہا ہوں میں


پوچھتے ہیں وہ حالِ دل مجھ سے 

اور غزلیں سنا رہا ہوں میں 


اپنے گاؤں کے سارے بچوں کو 

شعر کہنا سکھا رہا ہوں میں


میرے دل میں سما رہا ہے تو 

تیرے دل میں سما رہا ہوں میں


اس محبت سے سب بچو یارو 

پھر نہ کہنا بتا رہا ہوں میں  


رات کیا دیکھتا ہوں سپنے میں 

تجھ کو سینے لگا رہا ہوں میں


اپنی دنیا سے تیری دنیا تک 

ایک رستہ بنا رہا ہوں میں


دے رہا ہوں تسلیاں دل کو 

خود کو پاگل بنا رہا ہوں میں  


اب تو آ جاؤ مجھ سے ملنے کو 

خاک ہونے کو جا رہا ہوں میں 


محمد آصف میئو

 حسن کی اک مثال ہے یارو 

وہ سراپا جمال ہے یارو 


وہ کرشمہ ہے ایک، قدرت کا 

میرے رب کا کمال ہے یارو 


پہلے وہ صرف یاد آتی تھی

اب تو جینا محال ہے یارو


ہم سے اجڑے، غریب لوگوں کا

کون پرسانِ حال ہے یارو


میرے جیسے بھی شعر کہنے لگے 

شاعری کا زوال ہے یارو


محمد آصف میئو

Saturday, 14 October 2023

 سب پوچھتے رہتے ہیں وہ کیسی ہے کہاں ہے

بس اتنا بتا دوں میں جہاں ہوں وہ وہاں ہے


سُکھ چین ہے دُکھ درد ہے دولت ہے مکاں ہے

لاہور کی اک لڑکی مجھے سارا جہاں ہے


یہ زخم ہے کیسا کہ جو بھرتا ہی نہیں ہے

ہم ہو چکے بوڑھے یہ مگر اب بھی جواں ہے


ہائے وہ مرا دوست مری جان مرا پیار

جس سمت بھی دیکھیں ہیں یہی آہ و فغاں ہے


جی جان سے چاہو جسے وہ ملتا نہیں ہے

مجنوں کے زمانے سے یہی رسم رواں ہے


یعنی کہ تو کرتا ہے گلے پیٹھ کے پیچھے 

یعنی کہ ترے منہ میں منافق کی زباں ہے


محمد آصف میؤ

Sunday, 1 October 2023

 وہ ہمیں چھوڑ کر چل دیا دوستا

ہم پکارا کیے دوستا دوستا 


مدتوں بعد تو ہے ملا دوستا

کچھ مری سن کچھ اپنی سنا دوستا


تو نے جیون نیا اک شروع کر لیا 

میں وہیں پر رکا رہ گیا دوستا


تیرے جانے سے جیون یہ بے نور ہے 

میرے جیون میں پھر لوٹ آ دوستا


مانتا ہوں میں تیرا گنہ گار ہوں

تو جو چاہے مجھے دے سزا دوستا

محمد آصف میؤ

Thursday, 31 August 2023

 اُف وہ جس کی دلہن بنی ہوگی 

اُس کی قسمت بدل گئی ہوگی 


روٹھ کر مجھ سے وہ شفق اندام 

جَون کے شعر پڑھ رہی ہوگی 


میں بھی اب خون تُھوکتا ہوں صنم 

آپ کو جان کر خوشی ہوگی


پوچھتا ہوں میں خود سے یہ اکثر

کیا ترے بِن بھی زندگی ہوگی 


وہ مری "ایک لڑکی" والی نظم 

ہو نہ ہو اُس نے بھی پڑھی ہوگی 


جتنا لکھتا ہوں اس کے بارے میں 

وہ تو بدنام ہو گئی ہوگی 


کامیابی مری, عزیزوں کی 

لازمی آنکھ میں چبھی ہوگی 


سُن کے خبریں مری ترقی کی 

رشتہ داروں کی جل گئی ہوگی


محمد آصف میؤ

Sunday, 27 August 2023

 

بنا کے آشیاں آندھی کا انتظار کروں

تو چاہتا ہے کہ میں عشق اختیار کروں

 

میں اُس کے واسطے آنکھوں کو اشک بار کروں

وہ شہر بانو نہیں ہے جو اُس سے پیار کروں

 

ملا ہے اُس سے ملاقات کا یہی نسخہ

کہ نیند اوڑھ لوں خوابوں میں انتظار کروں

 

خدا نے خوبیاں دی ہیں تو اس کا کیا مطلب

کہ میں معصوم حسیناؤں کا شکار کروں

 

تُو چاہتا ہے میں ماتم کروں جدائی کا

تُو چاہتا ہے میں دامن کو تار تار کروں

 

نہہں ملا جو وہ قسمت میں ہی نہیں ہوگا

اب اتنی بات کو کیا ذہن پہ سوار کروں

 

محمد آصف میؤ


اشک آنکھوں میں نہ لاؤ لڑکی

ہم پہ یہ ظلم نہ ڈھاؤ لڑکی

 

سُرمہ آنکھوں میں لگاؤ لڑکی

ہم کو دیوانہ بناؤ لڑکی

 

ہم کو سینے سے لگاؤ لڑکی

اس زمانے کو جلاؤ لڑکی

 

زلف لہرا کے نہ آؤ لڑکی

یہ قیامت نہ اُٹھاؤ لڑکی

 

پھر سُخن کا ہے دل میں شوق اٹھا

پھر مجھے چھوڑ کے جاؤ لڑکی

 

دیکھ کر کر رہی ہو ان دیکھا

ہم کو ایسے نہ ستاؤ لڑکی

 

چھوڑ جاؤ مگر محبت کا

یوں تماشہ نہ بناؤ لڑکی

 

ملنے آنا اگر نہیں ممکن

خواب میں ہی چلی آؤ لڑکی

 

دوستی کرتا ہوں مگر پہلے

جَون کا شعر سناؤ لڑکی

 

سب سمجھتا ہوں نومولود نہیں

مجھکو پاگل نہ بناؤ لڑکی

 

میں ہوں شاطر کھلاڑی لفظوں کا

میری باتوں میں نہ آؤ لڑکی

 

محمد آصف میؤ

 

ہم جل رہے ہیں ہجر کے صَحرا میں یا خدا

ہم کو بھی کبھی وصل کی بارش نصیب کر

 

محمد آصف میؤ

Monday, 10 July 2023


تیرے اوپری ہونٹ کا تِل لڑکی

میرا چھین کے لے گیا دل لڑکی

 

مجھے مار دے اپنی نظروں سے

خنجر نہ اٹھا قاتل لڑکی

 

میں بھنورا بن کر آؤں گا

تو پھول کی صورت کِھل لڑکی

 

میں دنیا سے لڑ جاؤں گا

تجھے کرنے کو حاصل لڑکی

 

تیرے تن کی پیاس بُجھا دوں گا

کسی روز اکیلے مِل لڑکی

 

میرا جیون گُھپ اندھیرا ہے

میرا جیون کر جِھلمِل لڑکی

 

تمہیں کیسے بُھلا دوں تم میری

نس نس میں ہو شامل لڑکی

 

کوئی شعر سناؤ آصف کا

اور لُوٹ لو یہ محفِل لڑکی

 

محمد آصف میؤ

  

ہم لے کے آ رہے ہیں وہ شاہکار دوستو

جس کا تھا آپ سب کو انتظار دوستو

 

اقرار کر رہے ہیں نہ انکار دوستو

وہ کر رہے ہیں ظلم لگاتار دوستو

 

چرچے ہیں کل جہان میں ان کے جمال کے

اک ہم ہی نہیں ان کے پرستار دوستو

 

کچھ بات ہے جو لگ گئے تالے زبان پر

ہم بھی کبھی تھے ماہرِ گُفتار دوستو

 

محفل میں سب کے سامنے سن کر وفا کا ذکر

اک شخص ہو رہا ہے شرمسار دوستو

 

جس کا تھا انتظار ہمیں چار برَس قبل

ہے آج بھی اسی کا انتظار دوستو

 

اس نفرتوں کے حبس زدہ معاشرے میں آج

ہے کون محبت کا طرف دار دوستو

 

نفرت کا نام تک نہ رہے گا جہان میں

ہوگا کبھی تو یہ بھی چمتکار دوستو

 

تو کیا ہوا واہ وائ اگر مل نہیں رہی

ہم شعر کہہ رہے ہیں دھواں دار دوستو

 

نفرت بھری ہوئ ہے ہمارے دماغ میں

اور دل ہے محبت کا طلب گار دوستو 

 

محمد آصف میؤ

 

 

دل کی کشتی کا ڈبونا نہیں دیکھا جاتا

ہم سے پگلی ترا رونا نہیں دیکھا جاتا

 

موئ دنیا بڑی حاسد ہے اس کمینی سے

آپ کا مجھ میں سمونا نہیں دیکھا جاتا

 

تیرا مرنا تو دیکھ سکتے ہیں مگر لڑکی

غیر کے گھر ترا ہونا نہیں دیکھا جاتا

 

باخدا دل مرا واپس مجھے دے دیجے اب

خالی سینے کا یہ کونا نہیں دیکھا جاتا

 

پہلے کہتے تھے تری موت دیکھ سکتے ہیں

اب ترا قبر میں سونا نہیں دیکھا جاتا

 

غمِ فراق بھی کچھ کم تو نہیں ہے لیکن

تنگئِ رزق کا ہونا نہیں دیکھا جاتا

 

محمد آصف میؤ

 نظم : محبت نہیں 

 ایک ذرہ برابر تمہارے لئے 

میرے دل میں اے لڑکی 

محبت نہیں

میں تو شاعر ہوں

غزلوں کا خالق ہوں میں 

مجھ کو بحر و قوافی سے فرصت نہیں 

مجھ کو تم سے محبت نہیں چاہئے

تم مجھے چاہتی ہو تو چاہتی رہو

تم دعاؤں میں مانگو مجھے رات دن 

تم مرے نام کے گیت گاتی رہو

ایک ذرہ برابر تمہارے لئے

میرے دل میں اے لڑکی 

محبت نہیں 

میں نے اُس کو بتایا

محبت نہیں

وہ مگر پھر بھی

مجھ پہ ہی مرتی رہی

جس کو میں نے ذرا سی توجہ نہ دی

وہ مرے واسطے ہی سنورتی رہی

ایک دن یوں ہوا

اُس نے مجھ سے کہا

پیار سے دیکھ لو

ورنہ مر جاؤں گی

میں مَروں گی تو تیری ہتھیلی پہ بھی

زندگی بھر کا پچھتاوا دَھر جاؤں گی

میں نے اس کو نہ سنجیدگی سے لیا 

ڈانٹ کر اس کو میں 

اپنے گھر آ گیا 

اس کی باتوں کو میں

اَن سُنا کر گیا 

اس کی چاہت کو

 دُھتکار کر آگیا

میں نے سوچا

کہ یوں کوئی مرتا ہے کیا

موت دیکھے گی تو

خود ہی ڈر جائے گی

کونسا میں زلیخا کا یوسف ہوں کہ

میری چاہت میں جاں سے گُزر جائے گی

دن ڈھلے آ خبر دی کسی دوست نے

وہ جو کہتی تھی

سچ کر گئی آج وہ

تیری غزلیں مُبارک تجھے دوستا

تجھ پہ مرتی تھی جو

مر گئی آج وہ

تجھ پہ مرتی تھی جو

مر گئی آج وہ...

 

محمد آصف میؤ

اپنی جاگیر گنوا دی ہم نے
تیری تصویر جلا دی ہم نے

شمع ءِ عشق بجھا دی ہم نے
تیری ہر بات بُھلا دی ہم نے

مطلبِ حسن مو سے پوچھا گیا
تیری تصویر بنا دی ہم نے

ہاتھ جس نے بھی رکھا کاندھے پر 
دل کی روداد سنا دی ہم نے

پر یہ افسوس رہے گا آصف
کیوں تمہیں دل میں جگہ دی ہم نے

محمد آصف میؤ

Friday, 28 April 2023

 دِل چھن گیا ہے ، چھِن گیا دِل کا سُرُور بھی 

وہ کیا گیا کہ لے گیا آنکھوں کا نُور بھی ۔۔۔


وہ پَرلے شہر ہو کے بھی دِل میں مکین ہے 

وہ پاس بھی رہتا ہے مرے اور دُور بھی ۔۔۔


اِتراتا ہے وہ اور ہمیں دیکھتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

اِک تو سِتم کرے ہے پھر اُس پہ غُرُور بھی 


بس دردِ دل سنائیے اور داد پائیے ۔۔۔۔۔۔

یہ کیا فضول چیزیں ہیں وزن و بحُور بھی 


پیتے ہیں اس جہاں میں بھی جی بھر شراب اور 

کرتے ہیں آرزوئے شرابِ طَہُور بھی ۔۔۔۔۔۔


آصف لبوں سے اُس کے ہنسی پھوٹتی ہے اور 

ماتھے پہ بنی ہوتی ہیں اُس کے سُطُور بھی


محمد آصف میؤ

Sunday, 9 April 2023

 سبھی دعاؤں کا رد ہونا بے اثر جانا 

غضب تکلیف ہے یہ خواہشوں کا مر جانا


تم کسی اور کی ہو جاؤگی تو دکھ ہوگا 

تم کسی اور کی نہ ہونا بھلے مر جانا


میں تمہیں جاتے ہوئے دیکھ نہیں پاؤں گا 

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ تو دوڑ کر جانا


ہائے وہ وقت کہ جب عشق پر یقیں نہ تھا 

پھر اچانک تمہاری کھڑکی پر نظر جانا


میں چاہتا ہوں کہ کھو کر تمہیں پچھتاؤں بہت  

تمہیں میں چھوڑ دوں تو اور بھی سنور جانا


محمد آصف میؤ

Friday, 7 April 2023

 ایک ذرہ برابر تمہارے لئے 

میرے دل میں اے لڑکی 

محبت نہیں

میں تو شاعر ہوں

غزلوں کا خالق ہوں میں 

مجھ کو بحر و قوافی سے فرصت نہیں 

مجھ  کو تم سے محبت نہیں چاہئے

تم مجھے چاہتی ہو تو چاہتی رہو

تم دعاؤں میں مانگو مجھے رات دن 

تم مرے نام کے گیت گاتی رہو

ایک ذرہ برابر تمہارے لئے

میرے دل میں اے لڑکی 

محبت نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد آصف میؤ

 واں غیر سے منسوب ہوا وہ ، یہاں مرا 

شوقِ وصالِ یار بھی مٹی میں مل گیا

محمد آصف میؤ

 چاہئیے ہے ترا سہارا مجھے 

آ گلے سے لگا خدارا مجھے


میں ترے ہجر سے مرا ہوں کیا 

یا تری بے رخی نے مارا مجھے 


سب کے سب تھے مرے خلاف یہاں 

سب سے کرنا پڑا کنارا مجھے 


میرے مرنے کی اک وجہ یہ تھی

زندگی نے نہیں پکارا مجھے 


آپ کا ہجر تو بہانہ تھا 

میری حساسیت نے مارا مجھے 


محمد آصف میؤ

 خوشی سے آشنا ، بیگانہءِ الم کردے 

اے ربِّ کُل مری افسُردَگی کو کم کر دے


وہ میرے دل سے نکل جائے ایسا وِرد بتا 

وہ مجھ کو یاد نہ آئے کچھ ایسا دَم کر دے


دے مجھ کو ایسا ہُنَر میں بھی حمد و نعت کہوں 

مجھے دے فہمِ سخن ، صاحِبِ قَلَم کر دے


ڈال کر خوشیاں محبت کی میری جھولی میں 

تو میرے دل سے دفع سارے رنج و غم کر دے

محمد آصف میؤ

 پوچھ رہے ہیں آج ہمارے خوش ہونے کا یار سبب 

آج اُن کا دیدار ہوا ہے اور تو کوئی بات نہیں 


کہنے کو تو اس کے بعد بھی سب کچھ ہے موجود یہاں

سب کچھ ہے موجود یہاں پر پہلے سے دن رات نہیں


محمد آصف میؤ

Sunday, 2 April 2023

 مرا وجود انہیں بوجھ لگنے لگ گیا ہے

مرے بچے مرے مرنے کے انتظار میں ہیں

محمد آصف میؤ

Thursday, 2 February 2023

نظم : فرصت

 کسی کو فرصت ہی کب ہے یارو

کہ کوئی ہم پہ نگاہ ڈالے 

کہ کوئی ہم کو ٹھہر کے دیکھے

 پلٹ کے دیکھے 

اور ان کی نظریں 

ہمارے جسموں میں ایسے اتریں

کہ جیسے شاعر پہ شعر اتریں 


کسی کو فرصت ہی کب ہے یارو 

ہماری جھوٹی ہنسی کے پیچھے

چھپی ہماری اداسی دیکھے

ہمارے کاندھے پہ ہاتھ رکھے 

ہمارے اندر کے دکھ کو سمجھے 


کسی کو فرصت ہی کب ہے کہ وہ 

مجھ ایسے لڑکے

کی خامشی کو آواز سمجھے 

مجھ ایسے پاگل کی شاعری کو

بھی راز سمجھے 


محمد آصف میؤ

Thursday, 26 January 2023

نظم : وہ ایک لڑکی

 وہ ایک لڑکی کہ جسکی آنکھوں 

میں جگنوؤں سی چمک ہے یارو 

اُفق پہ بارش کے بعد پڑتی

 وہ سات رنگی دھنک ہے یارو 


ہمارے دل میں وہ ایک لڑکی

 گزشتہ سالوں سے بس رہی ہے

کہ یاد اس کی ہمارے جیون

 کو لمحے لمحے میں ڈس رہی ہے


وہ ایک لڑکی کے جسکی صورت

 کو میری آنکھیں ترس رہی ہیں

وہی تو ہے وہ کہ جس کے غم میں 

ہماری آنکھیں برس رہی ہیں


وہ ایک لڑکی جو میری خواہش

 ہے میری حسرت ہے میری چاہت 

وہ ایک لڑکی کہ جس کو دیکھے

 سے میرے دل کو ہے ملتی راحت


وہ ایک لڑکی کہ جس کو دیکھے سے

 میرے دل کو قرار آئے 

وہ ایک لڑکی کہ جس کے ہونے

 سے غم زمانے کا بھول جائے



وہ ایک لڑکی کہ شہرِ قائد میں

 جس کا گھر ہے 

وہ لڑکی مجھ کو

 جہان بھر سے عزیز تر ہے


وہ لڑکی مجھ کو

 جہان بھر سے عزیز تر ہے


محمد آصف میؤ

Saturday, 7 January 2023

 پھر تری یاد آئی کسی بات پر 

پھر ترا ہجر سہنا پڑے گا مجھے 


پاس آؤ،  گلے سے لگو،  پیار دو 

یعنی یہ سب بھی کہنا پڑے گا مجھے


محمد آصف میؤ

Monday, 24 October 2022

 

سکونِ دل کی بربادی، میاں تم کو مبارک ہو

مرے معشوق سے شادی، میاں تم کو مبارک ہو

 

وہ تم کو باندھ کے رکھے گی پلُّو سے یہ لکھ رکھو

کہ آزادی سے آزادی ، میاں تم کو مبارک ہو

 

وہ پاگل ہے، جنونی ہے، وہ ٹینشن کی مریضہ ہے

سلیپنگ پِلز کی عادی، میاں تم کو مبارک ہو

 

وہ  ایسے جھوٹ گھڑتی ہے کہ شیطاں بھی پناہ مانگے

وہ مکّاروں کی پردادی، میاں تم کو مبارک ہو

 

ہمیں بھی مل ہی جائے گی کسی دہقان کی بیٹی

ولایت کی وہ شہزادی، میاں تم کو مبارک ہو

 

محمد آصف میؤ

Wednesday, 12 October 2022

خار آنے لگی خوشی سے مجھے

اب شکایت نہیں کسی سے مجھے

 

یوں تو چہرے پسند ہیں کافی

پر محبت ہے آپ ہی سے مجھے

 

تیری تصویر میرے بٹوے میں

باز رکھتی ہے خود کشی سے مجھے

 

میرے حجرے میں بلا لاؤ اسے

بات کرنی ہے چاندنی سے مجھے

 

تو محبت میں ہی نہ پڑ جائے

دیکھ نہ اتنی تندہی سے مجھے

 

بَن کے بیٹھی ہے غیر کی دُلہن

کر کے بیزار زندگی سے مجھے

 

اب اندھیرے پسند ہیں مجھ کو

خوف آتا ہے روشنی سے مجھے

 

تم نے کتنوں کے گھر اجاڑے ہیں

پوچھنا ہے یہ دل لگی سے مجھے

 

محمد آصف میؤ

 


 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...