Friday, 8 July 2022

تم مری زیست کا سامان نہیں ہو سکتی

تم مری زیست کا سامان نہیں ہو سکتی 

دوست ہو سکتی ہو پر جان نہیں ہو سکتی 

زندگی نام ہی دشواری و الجھن کا ہے 

زندگی ہے تو پھر آسان نہیں ہو سکتی

جس نے دیکھا ہے تمہیں ہنستے مسکراتے ہوئے 

اُس کی آنکھیں کبھی ویران نہیں ہو سکتی

تمہاری ہی عطا کردہ ہے یہ ژولیدہ حالی 

تم میرے حال پر حیران نہیں ہو سکتی

دل یہ ہر ایک حسینہ کو جگہ دیتا ہے

دل کی بستی کبھی سُنسان نہیں ہو سکتی

محمد آصف میؤ


No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...