تم مری زیست کا سامان نہیں ہو سکتی
دوست ہو سکتی ہو پر جان نہیں ہو سکتی
زندگی نام ہی دشواری و الجھن کا ہے
زندگی ہے تو پھر آسان نہیں ہو سکتی
جس نے دیکھا ہے تمہیں ہنستے مسکراتے ہوئے
اُس کی آنکھیں کبھی ویران نہیں ہو سکتی
تمہاری ہی عطا کردہ ہے یہ ژولیدہ حالی
تم میرے حال پر حیران نہیں ہو سکتی
دل یہ ہر ایک حسینہ کو جگہ دیتا ہے
دل کی بستی کبھی سُنسان نہیں ہو سکتی
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment