Sunday, 31 March 2024

 میں ہوں تیری کمی ہے کمرے میں 

کس قدر بے بسی ہے کمرے میں 


دل کی دھڑکن سے کان پھٹتے ہیں

اس قدر خامشی ہے کمرے میں 


تیرے جانے کے بعد مایوسی 

ہر سُو بکھری پڑی ہے کمرے میں 


اس لئے چھوڑتا نہیں اس کو 

تیری خوشبو بسی ہے کمرے میں


 کل اداسی تھی غم تھا رسی تھی 

آج پھانسی لگی ہے کمرے میں


محمد آصف میئو

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...