Saturday, 14 October 2023

 سب پوچھتے رہتے ہیں وہ کیسی ہے کہاں ہے

بس اتنا بتا دوں میں جہاں ہوں وہ وہاں ہے


سُکھ چین ہے دُکھ درد ہے دولت ہے مکاں ہے

لاہور کی اک لڑکی مجھے سارا جہاں ہے


یہ زخم ہے کیسا کہ جو بھرتا ہی نہیں ہے

ہم ہو چکے بوڑھے یہ مگر اب بھی جواں ہے


ہائے وہ مرا دوست مری جان مرا پیار

جس سمت بھی دیکھیں ہیں یہی آہ و فغاں ہے


جی جان سے چاہو جسے وہ ملتا نہیں ہے

مجنوں کے زمانے سے یہی رسم رواں ہے


یعنی کہ تو کرتا ہے گلے پیٹھ کے پیچھے 

یعنی کہ ترے منہ میں منافق کی زباں ہے


محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...