سب پوچھتے رہتے ہیں وہ کیسی ہے کہاں ہے
بس اتنا بتا دوں میں جہاں ہوں وہ وہاں ہے
سُکھ چین ہے دُکھ درد ہے دولت ہے مکاں ہے
لاہور کی اک لڑکی مجھے سارا جہاں ہے
یہ زخم ہے کیسا کہ جو بھرتا ہی نہیں ہے
ہم ہو چکے بوڑھے یہ مگر اب بھی جواں ہے
ہائے وہ مرا دوست مری جان مرا پیار
جس سمت بھی دیکھیں ہیں یہی آہ و فغاں ہے
جی جان سے چاہو جسے وہ ملتا نہیں ہے
مجنوں کے زمانے سے یہی رسم رواں ہے
یعنی کہ تو کرتا ہے گلے پیٹھ کے پیچھے
یعنی کہ ترے منہ میں منافق کی زباں ہے
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment