Wednesday, 20 April 2022

 جنوں ہی نہ رہا جب شاعری کہاں سے ہو 

ترے بغیر مری جاں خوشی کہاں سے ہو


تم میرے منہ پہ ہی میرے ہو پیٹھ پیچھے نہیں 

ایسے میں تم سے بھلا دوستی کہاں سے ہو


سراپا حسن ہو لگتی ہو ملکہ پریوں کی 

بلا کی خوبصورت ہو اجی کہاں سے ہو


میرے نزدیک تو خود سوز بہادر ہیں بہت

وگرنہ بزدلوں سے خود کشی کہاں سے ہو


جب دوست ہی دشمن ہوں آپ کے صاحب 

پھر بھلا دشمنوں سے دشمنی کہاں سے ہو

محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...