جنوں ہی نہ رہا جب شاعری کہاں سے ہو
ترے بغیر مری جاں خوشی کہاں سے ہو
تم میرے منہ پہ ہی میرے ہو پیٹھ پیچھے نہیں
ایسے میں تم سے بھلا دوستی کہاں سے ہو
سراپا حسن ہو لگتی ہو ملکہ پریوں کی
بلا کی خوبصورت ہو اجی کہاں سے ہو
میرے نزدیک تو خود سوز بہادر ہیں بہت
وگرنہ بزدلوں سے خود کشی کہاں سے ہو
جب دوست ہی دشمن ہوں آپ کے صاحب
پھر بھلا دشمنوں سے دشمنی کہاں سے ہو
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment