Monday, 29 November 2021

 یہ بارِ غمِ عشق اٹھایا نہ جائے گا 

تم رُوٹھے اگر ہم سے منایا نہ جائے گا 


تم خود ہی آکے دیکھ لو حالِ مریضِ عشق 

قاصد سے میرا حال سنایا نہ جائے گا 


سب ایک بار سن لیں میرا شعر غور سے 

دوبارہ کسی کو بھی سنایا نہ جائے گا 


چہرے سے عیاں ہوتا ہے جاناں تمہارا غم 

ہم سے تمہارا ہجر چھپایا نہ جائے گا 


جو ایک بار بیٹھ گیا مسندِ دل پر 

تاحشر اسے دل سے اتارا نہ جائے گا 


رد ہو گئی جو اب کے بھی درخواست ہماری 

ہم سے دوبارہ رب کو پکارا نہ جائے گا


جو مانگنا ہے دل سے مانگ اپنے خدا سے 

یہ مانگنا تمہارا نکارہ نہ جائے گا


آپ ائیے ہمارا مقدر سنوارئیے  

ہم سے تو کسی طور سنوارا نہ جائے گا


آصفؔ جسے یہ عاشقی کا روگ لگ گیا 

ماہر طبیب سے بھی بچایا نہ جائے گا


محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...