یہ بارِ غمِ عشق اٹھایا نہ جائے گا
تم رُوٹھے اگر ہم سے منایا نہ جائے گا
تم خود ہی آکے دیکھ لو حالِ مریضِ عشق
قاصد سے میرا حال سنایا نہ جائے گا
سب ایک بار سن لیں میرا شعر غور سے
دوبارہ کسی کو بھی سنایا نہ جائے گا
چہرے سے عیاں ہوتا ہے جاناں تمہارا غم
ہم سے تمہارا ہجر چھپایا نہ جائے گا
جو ایک بار بیٹھ گیا مسندِ دل پر
تاحشر اسے دل سے اتارا نہ جائے گا
رد ہو گئی جو اب کے بھی درخواست ہماری
ہم سے دوبارہ رب کو پکارا نہ جائے گا
جو مانگنا ہے دل سے مانگ اپنے خدا سے
یہ مانگنا تمہارا نکارہ نہ جائے گا
آپ ائیے ہمارا مقدر سنوارئیے
ہم سے تو کسی طور سنوارا نہ جائے گا
آصفؔ جسے یہ عاشقی کا روگ لگ گیا
ماہر طبیب سے بھی بچایا نہ جائے گا
محمد آصفؔ میؤ
No comments:
Post a Comment