دِل میں باتیں تھی جو چھپی ساری
رہتے رہتے وہ رہ گئی ساری
تُو جو آ جائے زندگی میں مِری
پوری ہو جائے گی کمی ساری
تیری مُسکان سے جاتی رہے گی
یہ جو آنکھوں میں ہے نمی ساری
تُو وجہ ہے ہمارے جینے کی
تجھ سے وابستہ ہے خوشی ساری
ادھورے شعر بے تُکی غزلیں
اپنی پونجی ہے بس یہی ساری
اب بھی کرنے کو بہت باتیں ہیں
ہم نے دِل کی نہیں کہی ساری
جانِ جاں تیرے حسیں چہرے پر
وار دوں اپنی زندگی ساری
محمد آصفؔ میؤ
No comments:
Post a Comment