Thursday, 11 June 2020

اب تو میں کسی سے نہ کبھی پیار کروں گا


اب تو میں کسی سے نہ کبھی پیار کروں گا

پر دل لگی حضور بار بار کروں گا

میں تیرے لئیے اپنی جاں نثار کروں گا

اور ساری عمر تیرا انتظار کروں گا

نفرت کوئی کرے گا تو میں پیار کروں گا

ایسا کرارا نفرتوں پہ وار کروں گا

گر پیار کرنا جرم ہے تجھ سےمیرے صاحب

تو سن لے میں یہ جرم بار بار کروں گا

پوچھے جو کوئی مجھ سے میرے پیار کے بارے

اقرار کروں گا نہ ہی انکار کروں گا

تو کان کھول سن لے نہ ہوگا کوئی بہانہ

تو اب کے ملے گا تو میں دیدار کروں گا

آصف اسے ذہن پہ یوں سوار کروں گا

جنوں میں اپنے گریباں کو تار تار کروں گا

 

محمد آصف میؤ

1 comment:

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...