اب تو میں کسی سے نہ کبھی پیار کروں گا
پر دل لگی حضور بار بار
کروں گا
میں تیرے لئیے اپنی جاں
نثار کروں گا
اور ساری عمر تیرا انتظار
کروں گا
نفرت کوئی کرے گا تو میں
پیار کروں گا
ایسا کرارا نفرتوں پہ وار
کروں گا
گر پیار کرنا جرم ہے تجھ
سےمیرے صاحب
تو سن لے میں یہ جرم بار
بار کروں گا
پوچھے جو کوئی مجھ سے
میرے پیار کے بارے
اقرار کروں گا نہ ہی
انکار کروں گا
تو کان کھول سن لے نہ
ہوگا کوئی بہانہ
تو اب کے ملے گا تو میں
دیدار کروں گا
آصف اسے ذہن پہ یوں سوار
کروں گا
جنوں میں اپنے گریباں کو
تار تار کروں گا
لاجواب
ReplyDelete