Monday, 16 May 2022

ایک پیپل کی ٹھنڈی چھاؤں میں

پیار بستا ہے میرے گاؤں میں

جو سکوں ہے ہمارے گاؤں میں

وہ کہاں شہر کی فضاؤں میں

ماں کے آنچل  کی ٹھنڈی چھاؤں میں

میری جنت ہے ماں کے پاؤں میں

جب مرے سامنے وہ آتی ہے

اڑنے لگتا ہوں میں ہواؤں میں

دل لگی کھیل بے وفاؤں کا

عشق مقبول باوفاؤں میں

ایک معصوم سی خواہش ہے مری

وہ کبھی آئے میرے گاؤں میں

اپنی غزلوں کی بناؤں پائل

اور پہنا دوں اسکے پاؤں میں

 

محمد آصف میؤ


No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...