ایک پیپل کی ٹھنڈی چھاؤں
میں
پیار بستا ہے میرے گاؤں
میں
جو سکوں ہے ہمارے گاؤں
میں
وہ کہاں شہر کی فضاؤں میں
ماں کے آنچل کی
ٹھنڈی چھاؤں میں
میری جنت ہے ماں کے پاؤں
میں
جب مرے سامنے وہ آتی ہے
اڑنے لگتا ہوں میں ہواؤں
میں
دل لگی کھیل بے وفاؤں کا
عشق مقبول باوفاؤں میں
ایک معصوم سی خواہش ہے
مری
وہ کبھی آئے میرے گاؤں
میں
اپنی غزلوں کی بناؤں پائل
اور پہنا دوں اسکے پاؤں
میں
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment