Tuesday, 8 February 2022

غزلیں سنتی ہو شعر پڑھتی ہو

غزلیں سنتی ہو شعر پڑھتی ہو 

تم بہت دل پذیر لڑکی ہو 


تم مرے ہوتے ہوئے ماہ جبیں 

آئینہ دیکھ کر سنورتی ہو؟


مجھ کو عادت ہے بھول جانے کی 

کیوں مری عادتوں سے ڈرتی ہو؟


میں بھلا کیسے بُھلا دوں تم کو 

تم مری دھڑکنوں میں بستی ہو


میں بھی نصرت فتح کو سنتا ہوں 

تم بھی نصرت فتح کو سنتی ہو


کس قدر بےوقوف ہو تم بھی 

میری معصومیت پہ مرتی ہو 


مجھ سے ملنے کو روز آیا کرو 

تم مرے دل کو بھلی لگتی ہو


چین مجھ کو بھی نہیں پر تم بھی 

رات بھر کروٹیں بدلتی ہو


مجھ کو تم سے یہ پوچھنا  ہے فقط 

اب بھی تم مجھ کو یاد کرتی ہو ؟ 


کیا ہتھیلی پہ اب بھی مہندی سے 

اپنے آصف کا نام لکھتی ہو

محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...