غزلیں سنتی ہو شعر پڑھتی ہو
تم بہت دل پذیر لڑکی ہو
تم مرے ہوتے ہوئے ماہ جبیں
آئینہ دیکھ کر سنورتی ہو؟
مجھ کو عادت ہے بھول جانے کی
کیوں مری عادتوں سے ڈرتی ہو؟
میں بھلا کیسے بُھلا دوں تم کو
تم مری دھڑکنوں میں بستی ہو
میں بھی نصرت فتح کو سنتا ہوں
تم بھی نصرت فتح کو سنتی ہو
کس قدر بےوقوف ہو تم بھی
میری معصومیت پہ مرتی ہو
مجھ سے ملنے کو روز آیا کرو
تم مرے دل کو بھلی لگتی ہو
چین مجھ کو بھی نہیں پر تم بھی
رات بھر کروٹیں بدلتی ہو
مجھ کو تم سے یہ پوچھنا ہے فقط
اب بھی تم مجھ کو یاد کرتی ہو ؟
کیا ہتھیلی پہ اب بھی مہندی سے
اپنے آصف کا نام لکھتی ہو
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment