کچھ نا مُراد لمحوں کی رنجش نہیں جاتی
آنکھوں سے انتظار کی بارش نہیں جاتی
اک ہم ہیں بِچھے جاتے ہیں قدموں میں تمہارے
اک تم ہو کہ جناب کی نازش نہیں جاتی
معلوم ہے وہ میرا مقدر نہیں ہے پر ۔۔۔۔۔۔
دل سے اُس ایک شخص کی خواہش نہیں جاتی
تم جتنا احترام کرو جتنا پیار دو ۔۔۔۔۔۔۔
لہجے سے بد لحاظ کے شورش نہیں جاتی
اک بار یوں لگا کہ وہ محفل میں ہیں موجود
تب سے مری نگاہ کی جنبش نہیں جاتی
بس اس خیال سے تری چاہت میں ہیں مگن
کہ رائیگاں کسی کی بھی کوشش نہیں جاتی
کتنوں کو مرے سامنے برباد کیا پر ۔۔۔۔۔
پھر بھی ہماری عشق کی خارش نہیں جاتی
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment