Monday, 25 April 2022

 میں تھا کل تک تری دعاؤں میں 

آج شامل ہوں بے وفاؤں میں 

جا رہا ہوں میں تیری دنیا سے 

یاد رکھنا مجھے دعاؤں میں

تم نہیں آئے میرے حصّے میں 

نقص تھا کچھ مری دعاؤں میں 

جب مرے سامنے وہ آتی تھی 

اُڑنے لگتا تھا میں ہواؤں میں 

میں نے بے وجہ دل نہیں ہارا 

کچھ تو تھا آپ کی اداؤں میں

ایک معصوم سی خواہش ہے مری 

تم کبھی آؤ میرے گاؤں میں 

میں خوشی سے دیوانہ ہو جاؤں 

دل بِچھاؤں تمہارے پاؤں میں 

آپ فائز وفا کی کرسی پر 

اور  مرا ذکر بے وفاؤں میں

ہم تو رندوں کے رند ہیں آصف

نہ گِنو ہم کو پارساؤں میں

محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...