میں تھا کل تک تری دعاؤں میں
آج شامل ہوں بے وفاؤں میں
جا رہا ہوں میں تیری دنیا سے
یاد رکھنا مجھے دعاؤں میں
تم نہیں آئے میرے حصّے میں
نقص تھا کچھ مری دعاؤں میں
جب مرے سامنے وہ آتی تھی
اُڑنے لگتا تھا میں ہواؤں میں
میں نے بے وجہ دل نہیں ہارا
کچھ تو تھا آپ کی اداؤں میں
ایک معصوم سی خواہش ہے مری
تم کبھی آؤ میرے گاؤں میں
میں خوشی سے دیوانہ ہو جاؤں
دل بِچھاؤں تمہارے پاؤں میں
آپ فائز وفا کی کرسی پر
اور مرا ذکر بے وفاؤں میں
ہم تو رندوں کے رند ہیں آصف
نہ گِنو ہم کو پارساؤں میں
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment