رُخ سجا لے تو کیا قیامت
ہو
پھر چھپا لے تو کیا قیامت
ہو
پر کشش اور حسیں لوگوں کے
دل ہوں کالے تو کیا قیامت
ہو
جان سوزی سے روکنے والا
زہر کھا لے تو کیا قیامت
ہو
ہم سے کچی عمر کے عاشق کو
ہجر آلے تو کیا قیامت ہو
غم کو شعروں میں ڈھالنے
والا
غم چھپا لے تو کیا قیامت
ہو
گاؤں کا لڑکا شہری لڑکی
سے
دل لگا لے تو کیا قیامت
ہو
کوئی خود اپنی آستینوں
میں
سانپ پالے تو کیا قیامت
ہو
کوئی شاہ زادی ہمارے دل
میں
گھر بنا لے تو کیا قیامت
ہو
کوئی لڑکی مری محبت میں
خوں بہا لے تو کیا قیامت
ہو
اپنے بابا کے سر کی پگڑی
کو
روند ڈالے تو کیا قیامت
ہو
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment