خار آنے لگی خوشی سے مجھے
اب شکایت نہیں کسی سے مجھے
یوں تو چہرے پسند ہیں کافی
پر محبت ہے آپ ہی سے مجھے
تیری تصویر میرے بٹوے میں
باز رکھتی ہے خود کشی سے مجھے
میرے حجرے میں بلا لاؤ اسے
بات کرنی ہے چاندنی سے مجھے
تو محبت میں ہی نہ پڑ جائے
دیکھ نہ اتنی تندہی سے مجھے
بَن کے بیٹھی ہے غیر کی دُلہن
کر کے بیزار زندگی سے مجھے
اب اندھیرے پسند ہیں مجھ کو
خوف آتا ہے روشنی سے مجھے
تم نے کتنوں کے گھر اجاڑے ہیں
پوچھنا ہے یہ دل لگی سے مجھے
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment