Wednesday, 12 October 2022

خار آنے لگی خوشی سے مجھے

اب شکایت نہیں کسی سے مجھے

 

یوں تو چہرے پسند ہیں کافی

پر محبت ہے آپ ہی سے مجھے

 

تیری تصویر میرے بٹوے میں

باز رکھتی ہے خود کشی سے مجھے

 

میرے حجرے میں بلا لاؤ اسے

بات کرنی ہے چاندنی سے مجھے

 

تو محبت میں ہی نہ پڑ جائے

دیکھ نہ اتنی تندہی سے مجھے

 

بَن کے بیٹھی ہے غیر کی دُلہن

کر کے بیزار زندگی سے مجھے

 

اب اندھیرے پسند ہیں مجھ کو

خوف آتا ہے روشنی سے مجھے

 

تم نے کتنوں کے گھر اجاڑے ہیں

پوچھنا ہے یہ دل لگی سے مجھے

 

محمد آصف میؤ

 


No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...