یاد تو ہوگا تیرے دل پہ میرا نام لکھا ہوتا تھا
تیرے
ہونٹوں پہ میرا نام سجا ہوتا تھا
کام
لیتے مسامحت سے ہو میرے بارے
اور
کبھی میرا انتظار لگا ہوتا تھا
تیرے
دن رات کا گزر محال ہو جانا
جب
بھی میں تجھ سے خفا ہوتا تھا
یاد
ہے تجھ پہ میری جاں میرا غصہ کرنا
میرے
غصے میں میرا پیار چھپا ہوتا تھا
تیری
آنکھوں میں کیوں آجاتے تھے آنسو جانے
جب
بھی باتوں میں کبھی ذکر وفا ہوتا تھا
اب یہ
سب کہنے سے کیا حاصل کہ
تیری
سانسوں میں میرا پیار بسا ہوتا تھا
محمد آصف میؤ

Waah
ReplyDelete