Wednesday, 15 December 2021

 تا دمِ مرگ تجھے دل میں بسائے رکھا 

اور دنیا سے تیرا عشق چھُپائے رکھا 


مجھ کو ہونے دیا کسی کا نہ خود میرا ہوا 

زندگی بھر مجھے دیوانہ بنائے رکھا


لذتِ وصل سے واقف نہ ہوئے ساری عمر 

ذائقہ ہجر کا بس مجھ کو چکھائے رکھا


آنے پایا نہ میرے دل میں کوئی تیرے بعد 

مسندِ دل پہ فقط تجھ کو بٹھائے رکھا 


دورِ فرقت میں میسر نہیں تھا جب تو ہمیں  

تیری تصویر سے ہی کام چلائے رکھا


ہم ترستے رہے اک نظرِ کرم کو تیری 

تو نے جامِ نظر غیروں کو پلائے رکھا


محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...