جن راستوں پہ اُس کے قدم تھے پڑے کبھی
جُوتے اُتار کر میں گزرتا ہوں وہاں سے
جب کی ہے ہے محبت تو کیوں دنیا سے چھپاؤںہاں مجھ کو محبت ہے فلاں بنتِ فلاں سے
سب کہتے ہیں اس کو بھی بہت پیار ہے مجھ سے
لیکن میں سننا چاہتا ہوں خود اس کی زباں سے
محمد آصفؔ میؤ
تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے آپ نے ہم کو بھول جانا ہے حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے روٹھ جانا ہے د...
No comments:
Post a Comment