Monday, 22 November 2021

 جن راستوں پہ اُس کے قدم تھے پڑے کبھی 

جُوتے اُتار کر میں گزرتا ہوں وہاں سے

جب کی ہے ہے محبت تو کیوں دنیا سے چھپاؤں
ہاں مجھ کو محبت ہے فلاں بنتِ فلاں سے

سب کہتے ہیں اس کو بھی بہت پیار ہے مجھ سے
لیکن میں سننا چاہتا ہوں خود اس کی زباں سے

محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...