تیری آغوش میں سمانا ہے
غم زمانے کا بھول جانا ہے
آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے
آپ نے ہم کو بھول جانا ہے
حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے
روٹھ جانا ہے دل دکھانا ہے
کب تلک مبتلائے عشق رہوں
میں نے پیسہ بھی تو کمانا ہے
کس طرح چھوڑ دوں سخن آصف
شعر شاعر کا آب و دانہ ہے
یہ تری چشمِ نیم باز آصف
کیسا عمدہ شراب خانہ ہے
محمد آصف میو
No comments:
Post a Comment