Friday, 5 November 2021

محمد آصف میؤ

 نگاہ اٹھا کے وہ محفل میں جب سلام کرے

ہوش والوں کی مدہوشی کا انتظام کرے

ہر ایک شخص کو نسبت بتانی پڑتی ہے
کون پاگل تمہارے شہر میں قیام کرے

ایک خواہش ہے میرے دل میں کہ وہ مہ جبیں
ملا کے نظر کبھی مجھ سے بھی کلام کرے

وہ رخ سے زلفیں ہٹا لے تو روشنی پھُوٹے
رخ پہ ڈالے اگر زلفیں تو دن کو شام کرے

خیالِ یار سے اک پل بھی جب نہیں غافل
کوئی دیوانہ بھلا کس پہر آرام کرے
محمد آصفؔ میؤ

2 comments:

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...