تجھے سننا چاہوں ہر دم تجھے دیکھوں میں مسلسل
میرا خوں نچوڑتا ہے تیرے ربط میں تعطُّل
کبھی بن کہے ہی سننا میرا حالِ دل سمجھنا
کبھی سن کے بھی نہ سننا ارے واہ تیرا تجاہل
مجھے دیکھ کر بھی جو تم یوں بنو کہ نہیں دیکھا
تمہیں زیب ہے کیا جاناں بھلا اس قدر تغافل
تو گیا ہے جب سے دلبر میرا لگ نہیں رہا دل
یہ دنوں میں بھی دکھی ہے اور شب میں بھی بیاکل
وہ یہ بولی بن سنور کے کہ میں کیسی لگ رہی ہوں
میں یہ بولا جان میری نہیں تیرا کچھ تقابُل
اک غم سے جان چھُوٹے تو تیّار دوسرا ہے
میری زندگی میں آصفؔ ہے غموں کا اک تسلسل
محمد آصفؔ میؤ
No comments:
Post a Comment