Wednesday, 15 December 2021

 تجھے سننا چاہوں ہر دم تجھے دیکھوں میں مسلسل 

میرا خوں نچوڑتا ہے تیرے ربط میں تعطُّل


کبھی بن کہے ہی سننا میرا حالِ دل سمجھنا

کبھی سن کے بھی نہ سننا ارے واہ تیرا تجاہل


مجھے دیکھ کر بھی جو تم یوں بنو کہ نہیں دیکھا

تمہیں زیب ہے کیا جاناں بھلا اس قدر تغافل


تو گیا ہے جب سے دلبر میرا لگ نہیں رہا دل 

یہ دنوں میں بھی دکھی ہے اور شب میں بھی بیاکل


وہ یہ بولی بن سنور کے کہ میں کیسی لگ رہی ہوں 

میں یہ بولا جان میری نہیں تیرا کچھ تقابُل


اک غم سے جان چھُوٹے تو تیّار دوسرا ہے

میری زندگی میں آصفؔ ہے غموں کا اک تسلسل


محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...