Saturday, 19 September 2020

وہی عشق کی ابتدا چاہتا ہوں

 


یہ قصّہ میں تجھ کو سنا چاہتا ہوں

 بتاؤں تجھے کہ میں کیا چاہتا ہوں


سب اپنے دکھوں کی دوا چاہتا ہوں

میں محبوب سے رابطہ چاہتا ہوں


وہی بے خیالی وہی بے قراری

وہی عشق کی ابتدا چاہتا ہوں


نہ جینے کی اب مجھ کو حسرت رہی ہے 

بہت جی چکا ہوں فنا چاہتا ہوں


تجھے پردے میں بارہا میں نے دیکھا 

بے پردہ تجھے دیکھنا چاہتا ہوں


ٓبہت توڑے دل میں نے اپنوں کے آصف

میں روٹھے ہوؤں کو منا چاہتا ہوں

محمد آصفؔ میؤ

2 comments:

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...