بس کیجیے کب تک یوں دوپٹہ بھگوئیں گے
اس ایک شخص کے لئے چیخیں گے روئیں گے
سب ٹوٹے ہوئے شاعروں کو مار ڈالیے
یہ ماتمی ، اداسیوں کا بیج بوئیں گے
ہم ہجر کے ماروں کو کہاں نیند میسر
ہم ہجر زدہ لوگ تو مر کر ہی سوئیں گے
جو لوگ ہیں دن رات مگن شعر گوئی میں
یہ لوگ نئی نسل کی کشتی ڈبوئیں گے
ہم کب تلک خوشیوں کو فراموش کریں گے
ہم کب تلک بچھڑے ہوئے لوگوں کو روئیں گے
ہم حضرتِ یعقوب کی سنت پہ چلیں گے
رو رو کے اپنی چشم کی بینائی کھوئیں گے
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment