Sunday, 31 July 2022

 

 بس کیجیے کب تک یوں دوپٹہ بھگوئیں گے

اس ایک شخص کے لئے چیخیں گے  روئیں گے

سب ٹوٹے ہوئے شاعروں کو مار ڈالیے

یہ ماتمی ، اداسیوں کا بیج بوئیں گے

ہم ہجر کے ماروں کو کہاں نیند میسر

ہم ہجر زدہ لوگ تو مر کر ہی سوئیں گے

جو لوگ ہیں دن رات مگن شعر گوئی میں

یہ لوگ نئی نسل کی کشتی ڈبوئیں گے

ہم کب تلک خوشیوں کو فراموش کریں گے

ہم کب تلک بچھڑے ہوئے لوگوں کو روئیں گے

ہم حضرتِ یعقوب کی سنت پہ چلیں گے

رو رو کے اپنی چشم کی بینائی کھوئیں گے

محمد آصف میؤ


No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...