اُف وہ جس کی دلہن بنی ہوگی
اُس کی قسمت بدل گئی ہوگی
روٹھ کر مجھ سے وہ شفق اندام
جَون کے شعر پڑھ رہی ہوگی
میں بھی اب خون تُھوکتا ہوں صنم
آپ کو جان کر خوشی ہوگی
پوچھتا ہوں میں خود سے یہ اکثر
کیا ترے بِن بھی زندگی ہوگی
وہ مری "ایک لڑکی" والی نظم
ہو نہ ہو اُس نے بھی پڑھی ہوگی
جتنا لکھتا ہوں اس کے بارے میں
وہ تو بدنام ہو گئی ہوگی
کامیابی مری, عزیزوں کی
لازمی آنکھ میں چبھی ہوگی
سُن کے خبریں مری ترقی کی
رشتہ داروں کی جل گئی ہوگی
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment