Sunday, 18 February 2024

 میں شب بھر تھا کس کرب میں مبتلا 

مری جان تجھ کو نہیں ہے پتہ


ترے بن میں کیسے رہوں گا بھلا 

تو آتی نہیں ہے تو آلے قضا 


مجھے چھوڑ کر تو کہاں چل دیا 

محبت کا میری صلہ یہ دیا 


میں جب یاد کرتا ہوں اپنی وفا 

مجھے یاد آتی ہے تیری جفا


تو جس کو بھی رکھے گا دل میں مگر 

تجھے ہی رکھوں گا میں دل میں سدا


 محمد آصف میئو 

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...