میں شب بھر تھا کس کرب میں مبتلا
مری جان تجھ کو نہیں ہے پتہ
ترے بن میں کیسے رہوں گا بھلا
تو آتی نہیں ہے تو آلے قضا
مجھے چھوڑ کر تو کہاں چل دیا
محبت کا میری صلہ یہ دیا
میں جب یاد کرتا ہوں اپنی وفا
مجھے یاد آتی ہے تیری جفا
تو جس کو بھی رکھے گا دل میں مگر
تجھے ہی رکھوں گا میں دل میں سدا
محمد آصف میئو
No comments:
Post a Comment