دل
کی کشتی کا ڈبونا نہیں دیکھا جاتا
ہم
سے پگلی ترا رونا نہیں دیکھا جاتا
موئ
دنیا بڑی حاسد ہے اس کمینی سے
آپ
کا مجھ میں سمونا نہیں دیکھا جاتا
تیرا
مرنا تو دیکھ سکتے ہیں مگر لڑکی
غیر
کے گھر ترا ہونا نہیں دیکھا جاتا
باخدا
دل مرا واپس مجھے دے دیجے اب
خالی
سینے کا یہ کونا نہیں دیکھا جاتا
پہلے
کہتے تھے تری موت دیکھ سکتے ہیں
اب
ترا قبر میں سونا نہیں دیکھا جاتا
غمِ
فراق بھی کچھ کم تو نہیں ہے لیکن
تنگئِ
رزق کا ہونا نہیں دیکھا جاتا
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment