نظم : فرصت
کسی کو فرصت ہی کب ہے یارو
کہ کوئی ہم پہ نگاہ ڈالے
کہ کوئی ہم کو ٹھہر کے دیکھے
پلٹ کے دیکھے
اور ان کی نظریں
ہمارے جسموں میں ایسے اتریں
کہ جیسے شاعر پہ شعر اتریں
کسی کو فرصت ہی کب ہے یارو
ہماری جھوٹی ہنسی کے پیچھے
چھپی ہماری اداسی دیکھے
ہمارے کاندھے پہ ہاتھ رکھے
ہمارے اندر کے دکھ کو سمجھے
کسی کو فرصت ہی کب ہے کہ وہ
مجھ ایسے لڑکے
کی خامشی کو آواز سمجھے
مجھ ایسے پاگل کی شاعری کو
بھی راز سمجھے
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment