Thursday, 2 February 2023

نظم : فرصت

 کسی کو فرصت ہی کب ہے یارو

کہ کوئی ہم پہ نگاہ ڈالے 

کہ کوئی ہم کو ٹھہر کے دیکھے

 پلٹ کے دیکھے 

اور ان کی نظریں 

ہمارے جسموں میں ایسے اتریں

کہ جیسے شاعر پہ شعر اتریں 


کسی کو فرصت ہی کب ہے یارو 

ہماری جھوٹی ہنسی کے پیچھے

چھپی ہماری اداسی دیکھے

ہمارے کاندھے پہ ہاتھ رکھے 

ہمارے اندر کے دکھ کو سمجھے 


کسی کو فرصت ہی کب ہے کہ وہ 

مجھ ایسے لڑکے

کی خامشی کو آواز سمجھے 

مجھ ایسے پاگل کی شاعری کو

بھی راز سمجھے 


محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...