Friday, 7 April 2023

 خوشی سے آشنا ، بیگانہءِ الم کردے 

اے ربِّ کُل مری افسُردَگی کو کم کر دے


وہ میرے دل سے نکل جائے ایسا وِرد بتا 

وہ مجھ کو یاد نہ آئے کچھ ایسا دَم کر دے


دے مجھ کو ایسا ہُنَر میں بھی حمد و نعت کہوں 

مجھے دے فہمِ سخن ، صاحِبِ قَلَم کر دے


ڈال کر خوشیاں محبت کی میری جھولی میں 

تو میرے دل سے دفع سارے رنج و غم کر دے

محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...