یہ تعلق تمام مت کیجو
میرا جینا حرام مت کیجو
جس سے اجداد کی ہو رسوائی
ایسا کوئی بھی کام مت کیجو
اے غمِ جان ایک منت ہے
میرے دل میں قیام مت کیجو
تیرا جامِ نگاہ کافی ہے
رقص کا اہتمام مت کیجو
بیٹھے رہیو ہمارے پہلو میں
چاہے ہم سے کلام مت کیجو
شاعری کیجیو مگر آصف
میری آنکھوں کا نام مت کیجو
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment