Sunday, 18 February 2024

 ایسی بھی کیا مصیبتیں ٹوٹی ہیں آپ پر

صحرا میں آ بسے ہو جو گھر بار چھوڑ کر


چاہیں تو کاٹ دیجیے حاضر ہے میرا سر

ایسے تو چھوڑ کر نہیں جائیں حضور پر


ہم جل رہے ہیں ہجر کے صحرا میں یا خدا 

اب تو ہمیں بھی وصل کی بارش نصیب کر 


بیٹھے ہو ڈاکٹر تو کرو میرا کچھ علاج

تیرہ برس سے نیند نہیں آتی رات بھر 


کہنے لگے وہ میرے کچھ اشعار دیکھ کر 

آصف غزل کی دیوی مہر باں ہے آپ پر


محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...