ایسی بھی کیا مصیبتیں ٹوٹی ہیں آپ پر
صحرا میں آ بسے ہو جو گھر بار چھوڑ کر
چاہیں تو کاٹ دیجیے حاضر ہے میرا سر
ایسے تو چھوڑ کر نہیں جائیں حضور پر
ہم جل رہے ہیں ہجر کے صحرا میں یا خدا
اب تو ہمیں بھی وصل کی بارش نصیب کر
بیٹھے ہو ڈاکٹر تو کرو میرا کچھ علاج
تیرہ برس سے نیند نہیں آتی رات بھر
کہنے لگے وہ میرے کچھ اشعار دیکھ کر
آصف غزل کی دیوی مہر باں ہے آپ پر
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment