نظم : محبت نہیں
ایک ذرہ برابر تمہارے لئے
میرے دل میں اے لڑکی
محبت نہیں
میں تو شاعر ہوں
غزلوں کا خالق ہوں میں
مجھ کو بحر و قوافی سے فرصت نہیں
مجھ کو تم سے محبت نہیں چاہئے
تم مجھے چاہتی ہو تو چاہتی رہو
تم دعاؤں میں مانگو مجھے رات دن
تم مرے نام کے گیت گاتی رہو
ایک ذرہ برابر تمہارے لئے
میرے دل میں اے لڑکی
محبت نہیں
میں
نے اُس کو بتایا
محبت
نہیں
وہ
مگر پھر بھی
مجھ
پہ ہی مرتی رہی
جس
کو میں نے ذرا سی توجہ نہ دی
وہ
مرے واسطے ہی سنورتی رہی
ایک
دن یوں ہوا
اُس
نے مجھ سے کہا
پیار
سے دیکھ لو
ورنہ
مر جاؤں گی
میں
مَروں گی تو تیری ہتھیلی پہ بھی
زندگی بھر کا پچھتاوا دَھر جاؤں گی
میں نے اس کو نہ سنجیدگی سے لیا
ڈانٹ کر اس کو میں
اپنے گھر آ گیا
اس کی باتوں کو میں
اَن سُنا کر گیا
اس کی چاہت کو
دُھتکار کر آگیا
میں
نے سوچا
کہ
یوں کوئی مرتا ہے کیا
موت
دیکھے گی تو
خود
ہی ڈر جائے گی
کونسا
میں زلیخا کا یوسف ہوں کہ
میری
چاہت میں جاں سے گُزر جائے گی
دن
ڈھلے آ خبر دی کسی دوست نے
وہ
جو کہتی تھی
سچ
کر گئی آج وہ
تیری
غزلیں مُبارک تجھے دوستا
تجھ
پہ مرتی تھی جو
مر
گئی آج وہ
تجھ
پہ مرتی تھی جو
مر گئی آج وہ...
محمد آصف میؤ
No comments:
Post a Comment