اشک آنکھوں میں نہ لاؤ لڑکی
ہم پہ یہ ظلم نہ ڈھاؤ لڑکی
سُرمہ
آنکھوں میں لگاؤ لڑکی
ہم
کو دیوانہ بناؤ لڑکی
ہم کو سینے سے لگاؤ لڑکی
اس زمانے کو جلاؤ لڑکی
زلف
لہرا کے نہ آؤ لڑکی
یہ
قیامت نہ اُٹھاؤ لڑکی
پھر
سُخن کا ہے دل میں شوق اٹھا
پھر
مجھے چھوڑ کے جاؤ لڑکی
دیکھ
کر کر رہی ہو ان دیکھا
ہم
کو ایسے نہ ستاؤ لڑکی
چھوڑ
جاؤ مگر محبت کا
یوں
تماشہ نہ بناؤ لڑکی
ملنے
آنا اگر نہیں ممکن
خواب
میں ہی چلی آؤ لڑکی
دوستی
کرتا ہوں مگر پہلے
جَون
کا شعر سناؤ لڑکی
سب
سمجھتا ہوں نومولود نہیں
مجھکو
پاگل نہ بناؤ لڑکی
میں
ہوں شاطر کھلاڑی لفظوں کا
میری
باتوں میں نہ آؤ لڑکی
محمد
آصف میؤ
No comments:
Post a Comment