دل کی شمع بجھا رہا ہوں میں
آپ سے دور جا رہا ہوں میں
ہجر تیرا منا رہا ہوں میں
عمر اپنی گھٹا رہا ہوں میں
پیار کے نغمے گا رہا ہوں میں
نیند میں بڑبڑا رہا ہوں میں
اپنے دل کی ہتھیلیوں پر سے
نام تیرا مٹا رہا ہوں میں
پوچھتے ہیں وہ حالِ دل مجھ سے
اور غزلیں سنا رہا ہوں میں
اپنے گاؤں کے سارے بچوں کو
شعر کہنا سکھا رہا ہوں میں
میرے دل میں سما رہا ہے تو
تیرے دل میں سما رہا ہوں میں
اس محبت سے سب بچو یارو
پھر نہ کہنا بتا رہا ہوں میں
رات کیا دیکھتا ہوں سپنے میں
تجھ کو سینے لگا رہا ہوں میں
اپنی دنیا سے تیری دنیا تک
ایک رستہ بنا رہا ہوں میں
دے رہا ہوں تسلیاں دل کو
خود کو پاگل بنا رہا ہوں میں
اب تو آ جاؤ مجھ سے ملنے کو
خاک ہونے کو جا رہا ہوں میں
محمد آصف میئو
No comments:
Post a Comment