Sunday, 18 February 2024

 دل کی شمع بجھا رہا ہوں میں 

آپ سے دور جا رہا ہوں میں


ہجر تیرا منا رہا ہوں میں 

عمر اپنی گھٹا رہا ہوں میں


پیار کے نغمے گا رہا ہوں میں 

نیند میں بڑبڑا رہا ہوں میں 


اپنے دل کی ہتھیلیوں پر سے 

نام تیرا مٹا رہا ہوں میں


پوچھتے ہیں وہ حالِ دل مجھ سے 

اور غزلیں سنا رہا ہوں میں 


اپنے گاؤں کے سارے بچوں کو 

شعر کہنا سکھا رہا ہوں میں


میرے دل میں سما رہا ہے تو 

تیرے دل میں سما رہا ہوں میں


اس محبت سے سب بچو یارو 

پھر نہ کہنا بتا رہا ہوں میں  


رات کیا دیکھتا ہوں سپنے میں 

تجھ کو سینے لگا رہا ہوں میں


اپنی دنیا سے تیری دنیا تک 

ایک رستہ بنا رہا ہوں میں


دے رہا ہوں تسلیاں دل کو 

خود کو پاگل بنا رہا ہوں میں  


اب تو آ جاؤ مجھ سے ملنے کو 

خاک ہونے کو جا رہا ہوں میں 


محمد آصف میئو

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...