بنا
کے آشیاں آندھی کا انتظار کروں
تو
چاہتا ہے کہ میں عشق اختیار کروں
میں
اُس کے واسطے آنکھوں کو اشک بار کروں
وہ
شہر بانو نہیں ہے جو اُس سے پیار کروں
ملا
ہے اُس سے ملاقات کا یہی نسخہ
کہ
نیند اوڑھ لوں خوابوں میں انتظار کروں
خدا
نے خوبیاں دی ہیں تو اس کا کیا مطلب
کہ
میں معصوم حسیناؤں کا شکار کروں
تُو
چاہتا ہے میں ماتم کروں جدائی کا
تُو
چاہتا ہے میں دامن کو تار تار کروں
نہہں
ملا جو وہ قسمت میں ہی نہیں ہوگا
اب
اتنی بات کو کیا ذہن پہ سوار کروں
محمد
آصف میؤ
No comments:
Post a Comment