Sunday, 27 August 2023

 

بنا کے آشیاں آندھی کا انتظار کروں

تو چاہتا ہے کہ میں عشق اختیار کروں

 

میں اُس کے واسطے آنکھوں کو اشک بار کروں

وہ شہر بانو نہیں ہے جو اُس سے پیار کروں

 

ملا ہے اُس سے ملاقات کا یہی نسخہ

کہ نیند اوڑھ لوں خوابوں میں انتظار کروں

 

خدا نے خوبیاں دی ہیں تو اس کا کیا مطلب

کہ میں معصوم حسیناؤں کا شکار کروں

 

تُو چاہتا ہے میں ماتم کروں جدائی کا

تُو چاہتا ہے میں دامن کو تار تار کروں

 

نہہں ملا جو وہ قسمت میں ہی نہیں ہوگا

اب اتنی بات کو کیا ذہن پہ سوار کروں

 

محمد آصف میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...