Saturday, 4 May 2024

 زخم دل پر مرے لگایا گیا 

تم کو مجھ سے جدا بتایا گیا 


آخری بار اس کو دیکھا گیا 

آخری بار مسکرایا گیا 


میری میت پہ خاک ڈالی گئی

تیری شادی پہ گیت گایا گیا 


پھر مرا پیار مجھ سے چھینا گیا 

پھر مرا صبر آزمایا گیا


اس کے بستے میں پھول رکھے گئے 

اس کی کاپی پہ دل بنایا گیا 


جب محبت میں بے وفائی ملی

تب محبت سے باز آیا گیا


محمد آصف میئو

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...