بدنامیوں کا روگ مرے حصے ڈال کر
کیا مل گیا تمہیں مری عزت اچھال کر
ہم لوگ ہیں کہ سجنے سنورنے کی عمر میں
بیٹھے ہوئے ہیں عاشقی کا روگ پال کر
اچھا بتاؤ ملک کو کس نے تباہ کیا
یہ تو سبھی کو آتا ہے مشکل سوال کر
اگلے جہان رب کو دکھانے کے واسطے
رکھا ہوا ہے تیرا ہر اک دکھ سنبھال کر
جو اس جہاں نہ مل سکے ان کو وہاں ملا
اے خالقِ جہان ہمارا خیال کر
No comments:
Post a Comment