Wednesday, 27 March 2024

 بدنامیوں کا روگ مرے حصے ڈال کر

کیا مل گیا تمہیں مری عزت اچھال کر


ہم لوگ ہیں کہ سجنے سنورنے کی عمر میں 

بیٹھے ہوئے ہیں عاشقی کا روگ پال کر


اچھا بتاؤ ملک کو کس نے تباہ کیا

یہ تو سبھی کو آتا ہے مشکل سوال کر


اگلے جہان رب کو دکھانے کے واسطے 

رکھا ہوا ہے تیرا ہر اک دکھ سنبھال کر 


جو اس جہاں نہ مل سکے ان کو وہاں ملا 

اے خالقِ جہان  ہمارا خیال کر

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...