Monday, 28 December 2020

اے محبت تمہارے صدقے میں

 اپنی ہستی بھی نہ رہی اپنی 

بھول بیٹھے کہی سنی اپنی

یاد کرتا ہوں بے رخی تیری 

یاد آتی ہے دل لگی اپنی

 کر کے برباد زندگی میری 

عادتیں اس نے ہیں بدلی اپنی

کیا کروں ذکر اپنی حالت کا 

جو تمہاری ہے ہے وہی اپنی

اے محبت تمہارے صدقے میں

وار پھینکی ہے جان بھی اپنی

اپنی ہی محفلِ تنہائی میں

ہم نے محسوس کی کمی اپنی

اس محبت کے کھیل میں آصفٓ 

ہار بیٹھا ہوں زندگی اپنی

محمد آصفٓ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...