اپنی ہستی بھی نہ رہی اپنی
بھول بیٹھے کہی سنی اپنی
یاد کرتا ہوں بے رخی تیری
یاد آتی ہے دل لگی اپنی
کر کے برباد زندگی میری
عادتیں اس نے ہیں بدلی اپنی
کیا کروں ذکر اپنی حالت کا
جو تمہاری ہے ہے وہی اپنی
اے محبت تمہارے صدقے میں
وار پھینکی ہے جان بھی اپنی
اپنی ہی محفلِ تنہائی میں
ہم نے محسوس کی کمی اپنی
اس محبت کے کھیل میں آصفٓ
ہار بیٹھا ہوں زندگی اپنی
محمد آصفٓ میؤ
No comments:
Post a Comment