Saturday, 13 June 2020

خُود کُشی کے جرم کا میں اعتراف کرتا ہوں


اپنے دل کو جھوٹی تسلی دلا چُکا ہوں میں

اب تمہاری یاد کو یکسر بھلا چُکا ہوں میں

نہ نشانی ہے تیری نہ ہی کوئی خط بچا ہے 

ہجر کی آگ میں سب کچھ جلا چُکا ہوں میں 

خُود کشی کے جُرم کا میں اعتراف کرتا ہوں

ہاں میرے محبوب سے نظریں ملا چکا ہوں میں

اب تیرے ہونے نہ ہونے سے مجھے مطلب نہیں 

اب کسی اور سے دل کو لگا چکا ہوں میں

تمہارے عشق میں جو دکھ ملا تھا مجھ کو کبھی 

وقت کے ساتھ وہ دکھ بھی گنوا چکا ہوں میں 

اس وقت جو پڑھ رہے ہو غزل تم آصفٓ میاں

وجہِ غزل کو یہ غزل کب کا سُنا چکا ہوں میں

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...