اب تمہاری یاد کو یکسر بھلا چُکا ہوں میں
نہ نشانی ہے تیری نہ ہی کوئی خط بچا ہے
ہجر کی آگ میں سب کچھ جلا چُکا ہوں میں
خُود کشی کے جُرم کا میں اعتراف کرتا ہوں
ہاں میرے محبوب سے نظریں ملا چکا ہوں میں
اب تیرے ہونے نہ ہونے سے مجھے مطلب نہیں
اب کسی اور سے دل کو لگا چکا ہوں میں
تمہارے عشق میں جو دکھ ملا تھا مجھ کو کبھی
وقت کے ساتھ وہ دکھ بھی گنوا چکا ہوں میں
اس وقت جو پڑھ رہے ہو غزل تم آصفٓ میاں
وجہِ غزل کو یہ غزل کب کا سُنا چکا ہوں میں

No comments:
Post a Comment