Sunday, 7 March 2021

 کوئ اپنی غزل بھی کیا کسی کے نام کرتا ہے

ذکر اپنے حبیب کابھلا کوئ عام کرتا ہے

کام کرتی ہیں ساقی وہ میرے محبُوب کی آنکھیں

کام جو مے کدے میں تیرا ایک جام کرتا ہے

حاجتیں سب کی پُوری اک وہی اللہ کرتا ہے

تو کیُوں دن رات توُ مندر میں رام رام کرتا ہے

نظر جس پہ بھی ڈالے وہ وہی مدہو ش ہو جائے 

وہ محفل میں جو جاتا ہے شرابیں عام کرتا ہے

بذریعہ قلم توُ جذبات کو اپنے آصف

بازارِ ادب میں کیونکر بھلا نیلام کرتا ہے


محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...