کوئ اپنی غزل بھی کیا کسی کے نام کرتا ہے
ذکر اپنے حبیب کابھلا کوئ عام کرتا ہے
کام کرتی ہیں ساقی وہ میرے محبُوب کی آنکھیں
کام جو مے کدے میں تیرا ایک جام کرتا ہے
حاجتیں سب کی پُوری اک وہی اللہ کرتا ہے
تو کیُوں دن رات توُ مندر میں رام رام کرتا ہے
نظر جس پہ بھی ڈالے وہ وہی مدہو ش ہو جائے
وہ محفل میں جو جاتا ہے شرابیں عام کرتا ہے
بذریعہ قلم توُ جذبات کو اپنے آصف
بازارِ ادب میں کیونکر بھلا نیلام کرتا ہے
محمد آصفؔ میؤ
No comments:
Post a Comment