ہُوا ہوں قید یا آزاد ہوا ہوں صاحِب
آپکے جانے سے ناشاد ہوا ہوں صاحِب
اِتنی اَچرج سے تو نہ دیکھو مُجھے
آپکی مِہر سے برباد ہوا ہوں صاحِب
محمد آصفؔ میؤ
تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے آپ نے ہم کو بھول جانا ہے حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے روٹھ جانا ہے د...
No comments:
Post a Comment