کم سے کم پوچھ ہی لیتا ہے بندہ چائے کا
اتنا تو بنتا ہی ہے حق تیرے ہمسائے کا
مکین اِس کے بدلتے ہی رہتے ہیں اکثر
اُس کا دل ایسے ہے جیسے مکاں کرائے کا
محمد آصفؔ میؤ
تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے آپ نے ہم کو بھول جانا ہے حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے روٹھ جانا ہے د...
No comments:
Post a Comment