Sunday, 3 January 2021

کم سے کم پوچھ ہی لیتا ہے بندہ چائے کا 

اتنا تو بنتا ہی ہے حق تیرے ہمسائے کا

 مکین اِس کے بدلتے ہی رہتے ہیں اکثر

اُس کا دل ایسے ہے جیسے مکاں کرائے کا

محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...