وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے
وہ مجھ سے صاف دل عاشِق سے کیونکر بیر لیتی ہے
جان بستی ہے میری تم میں جو یہ کہتی تھی
اب کہیں دیکھ بھی لے تو نگاہیں پھیر لیتی ہے
میں اپنے دیس کے رانجھوں کی کیا تعریف کروں
انہیں ہر دوسرے ماہ اِک محبت گھیر لیتی ہے
کون کہتا ہے محبت نہیں ہو سکتی دوبارہ
یہ تو سو بار بھی ہو سکتی ہے پر دیر لیتی ہے
کہ جسکو ہوتی ہے سچی لگن عاشق سے ملنے کی
بنا کچے گھڑے کے بھی وہ آصف تیر لیتی ہے
محمد آصفٓ میؤ
No comments:
Post a Comment