Sunday, 22 November 2020

 وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے 

وہ مجھ سے صاف دل عاشِق سے کیونکر بیر لیتی ہے

جان بستی ہے میری تم میں جو یہ کہتی تھی 

اب کہیں دیکھ بھی لے تو نگاہیں پھیر لیتی ہے

میں اپنے دیس کے رانجھوں کی کیا تعریف کروں

انہیں ہر دوسرے ماہ اِک محبت گھیر لیتی ہے

کون کہتا ہے محبت نہیں ہو سکتی دوبارہ

یہ تو سو بار بھی ہو سکتی ہے پر دیر لیتی ہے

کہ جسکو ہوتی ہے سچی لگن عاشق سے ملنے کی 

بنا کچے گھڑے کے بھی وہ آصف تیر لیتی ہے

محمد آصفٓ میؤ


No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...