جو ہمیں جان سے بھی پیارے
ہیں
ان کی تصویر پہ گزارے ہیں
تری سہیلیاں کہ یوں سمجھو
چاند کے ارد گرد تارے ہیں
یہ جو شادی کے تجھ سے
وعدے ہیں
لارے ہیں اور صرف لارے
ہیں
آسماں پر جو بادل چھائے
ہیں
سب ملاقات کے اشارے ہیں
بن پیئے ہی جو ہوش کھو
بیٹھے
سب تمہاری نظر کے مارے
ہیں
یار آصفٓ منا لو روٹھوں
کو
چار دن زندگی کے سارے ہیں
محمد آصفؔ میؤ

No comments:
Post a Comment