Thursday, 6 August 2020

جان






جو ہمیں جان سے بھی پیارے ہیں

ان کی تصویر پہ گزارے ہیں

تری سہیلیاں کہ یوں سمجھو

چاند کے ارد گرد تارے ہیں

یہ جو شادی کے تجھ سے وعدے ہیں

لارے ہیں اور صرف لارے ہیں

آسماں پر جو بادل چھائے ہیں

سب ملاقات کے اشارے ہیں

بن پیئے ہی جو ہوش کھو بیٹھے

سب تمہاری نظر کے مارے ہیں

یار آصفٓ منا لو روٹھوں کو

چار دن زندگی کے سارے ہیں

 

محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...