جو تیری نظر سے نظر ملی
تو شرم کہاں جانے جا مری
وہ تیری تخیل سے پر گفتگو
میرا دل حقیقت میں لے اڑی
میرے دل کیوں تجھکو سکوں نہیں
یہ تجھے مصیبت ہے کیا پڑی
نہ نصیب ہے تجھے دیکھنا
میری آنکھ بھی کہاں جا لڑی
محمد آصف میؤ
تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے آپ نے ہم کو بھول جانا ہے حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے روٹھ جانا ہے د...
No comments:
Post a Comment