Wednesday, 17 June 2020

عشق



ہم نے اس عشق میں کیا کیا عذاب دیکھا ہے 

تم کو پا کر بھی تمہارا ہی خواب دیکھا ہے 

کون کہتا ہے کہ بجھتی ہے آگ بارش سے 

ہم نے بارش کو بھی جلتے جناب دیکھا ہے

جان کی پاؤں گر امان تو کچھ عرض کروں 

تجھ کو جب دیکھا بہ نیت ثواب دیکھا ہے 

 جو بھی دیکھے اسے کہے ہم نے 

چلتے پھرتے گلاب دیکھا ہے

 تیرے ہونے کو بھی ہر بار ہی ہم نے آصف

ایسے دیکھا ہے کہ جیسے سراب دیکھا ہے
محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...