اس کا دیدار کر کے آیا ہوں
سب حدیں پار کرکے آیا ہوں
وہ محبت جو کبھی تھی ہی نہیں
اس کا اظہار کر کے آیا ہوں
اپنی نہ ہونے والی بیوی سے
آج میں پیار کر کے آیا ہوں
وہ جو بچپن سے میرا دشمن تھا
آج اسے یار کر کے آیا ہوں
آج اک بے وفا کو اچھے سے
وفا شعار کر کے آیا ہوں
اپنا عادی بنا کے چھوڑ آیا
حسن پہ وار کر کے آیا ہوں
سب سے ملنے ملانے والی کو
سب سے بیزار کر کے آیا ہوں
جس کو سر درد بھی نہ ہوتا تھا
ذہنی بیمار کر کے آیا ہوں
پھر کسی مرد پہ یقیں نہ کرے
اس کو ہشیار کر کے آیا ہوں
محمد آصفؔ میؤ
No comments:
Post a Comment