Sunday, 24 October 2021

اس کا دیدار کر کے آیا ہوں
سب حدیں پار کرکے آیا ہوں 

وہ محبت جو کبھی تھی ہی نہیں 
اس کا اظہار کر کے آیا ہوں

اپنی نہ ہونے والی بیوی سے  
آج میں پیار کر کے آیا ہوں

وہ جو بچپن سے میرا دشمن تھا 
آج اسے یار کر کے آیا ہوں

آج اک بے وفا کو اچھے سے 
وفا شعار کر کے آیا ہوں

اپنا عادی بنا کے چھوڑ آیا
حسن پہ وار کر کے آیا ہوں

سب سے ملنے ملانے والی کو 
سب سے بیزار کر کے آیا ہوں 

جس کو سر درد بھی نہ ہوتا تھا 
ذہنی بیمار کر کے آیا ہوں

پھر کسی مرد پہ یقیں نہ کرے 
اس کو ہشیار کر کے آیا ہوں

محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...