Friday, 30 October 2020

 میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں

دعائیں میری تجھے مجھ سے ملا دیں نہ کہیں

رو بھی سکتا نہیں کُھل کر تیری محبت میں 

میرے آنسو تمہارا نام دِکھا دیں نہ کہیں

میری توبہ جو محبت کروں میں دوبارہ

تمہارے طور ہی مجھ کو وہ دغا دیں نہ کہیں

محبت تھی نہیں اسکو تبھی تو ڈرتا ہوں

لوگ الزام محبت کا لگا دیں نہ کہیں

میرا قصّہء محبت ہے بہت شہرہ جہاں 

یہ قصّہ بچے میرے مجھ کو سنا دیں نہ کہیں

آج سے دور بہت دور ہوں تجھ سے آصف

اہل دنیا تیرا تماشہ بنا دیں نہ کہیں

محمد آصفؔ میؤ

No comments:

Post a Comment

 تیری آغوش میں سمانا ہے غم زمانے کا بھول جانا ہے  آپ کو ہم نے یاد رکھنا ہے  آپ نے ہم کو بھول جانا ہے  حسن کا ایک ہی وطیرہ ہے  روٹھ جانا ہے د...